Brailvi Books

جواری وشرابی کی توبہ
22 - 32
میری عملی حالت ناقابلِ بیان تھی، فرائض و واجبات بجالانے اور گناہوں سے کنارہ کشی کرنے کا بالکل ذہن نہ تھا۔ نمازیں قضا کرنا، داڑھی منڈانا، فلمیں ڈرامے دیکھنا میرے معمولاتِ زندگی کا حصہ تھا۔ گانے سننے کا اس قدر رسیا تھا کہ اس کے بغیر میرا جینا دوبر ہوجاتا اور اکثر وبیشتر رات گانے سنتے سنتے ہی سوجاتا۔ ہر وقت پینٹ شرٹ میں ملبوس رہنا اور طرح طرح کے غیر اسلامی انداز اپنانا بھی میری عادت میں شامل تھا۔ علمِ دین سے دوری کے باعث مَعَاذَاللّٰہ والدین کی نافرمانی کرنا، ان کی نصیحتوں کو کسی خاطر میں نہ لانا اور لڑائی جھگڑا کر کے ان کی عزت پامال کرنامیرے لیے کوئی گناہ کا کام نہ تھا۔ اس کے علاوہ نامحرم عورتوں سے میل جول رکھنا اور ان کے ساتھ بے تکلف ہونا بھی میری پہچان بن چکا تھا اور یوں میں اپنے آپ کو جہنم کا حقدار بنا رہا تھا۔
	مجھے اس گناہوں بھری زندگی سے خلاصی ایک مُبَلِّغِ دعوتِ اسلامی کے ذریعے ملی جو نہ صرف سنّتوں پر عمل کرنے اور باکردار مسلمان بننے کی ترغیب دلانے والے تھے بلکہ خود سراپا ترغیب بھی تھے ۔ ہوا کچھ یوں کہ ایک روز میری ان سے ملاقات ہوگئی۔ انہوں نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی چونکہ میرے پاس انکار کی کوئی وجہ نہ تھی لہٰذا میں نے شرکت کی ہامی بھرلی۔ یوں ایک بار مجھے بھی دلوں کو بدلنے والے اور