اُ بَیْ بِن خَلَف کے ساتھ ہو گا۔‘‘(مَجْمَعُ الزوَائِد،کتاب الصلاۃ،باب فرض الصلاۃ،۲/۲۱،حدیث،۱۶۱۱)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حضرت سیِّدُنا امام محمد بن احمد ذَہَبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُاللّٰہِ القَوِینَقل کرتے ہیں کہ بعض عُلمائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام فرماتے ہیں : بے نمازی کو ان چار (فرعون، قارون، ہامان اور اُبی بن خَلَف)کے ساتھ اِس لیے اٹھایا جائے گا کہ لوگ عُمُوماً دولت، حُکومت ، وَزارت اور تجارت کی وجہ سے نَماز کو ترک کرتے ہیں ۔ جو حُکومت کی مشغولیَّت کے سبب نماز نہیں پڑھے گا اُس کا حَشر (یعنی اٹھایا جانا) فرعون کے ساتھ ہو گا، جو دولت کے باعث نماز ترک کرے گا تو اُس کاقارون کے ساتھ حَشر ہو گا، اگرترکِ نماز کا سبب وَزارت ہو گی تو فرعون کے وزیر ہامان کے ساتھ حَشر ہو گا اور اگر تجارت کی مصروفیت کی وجہ سے نَماز چھوڑے گا تو اس کو مکّہ مکرَّمہ کے بہت بڑے کافر تاجر اُ بَی بِن خَلَف کے ساتھ بروزِ قیامت اُٹھایا جائے گا۔ (کتابُ الکبائِر،ص۲۱)
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کی امیرِاہلسنّت پَر رَحمت ہو اور ان کے صد قے ہماری بے حسا ب مغفِرت ہو
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{5}احساسِ ندامت
پنڈی کھیپ(ضلع اٹک، صوبہ پنجاب، پاکستان) کے رہائشی اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدَنی ماحول میں آنے سے قبل