کو حیران اور مدَنی ماحول کی برکتوں کو ان پر آشکار کردیا۔ تادمِ تحریر ڈویژن مشاورت نگران کی حیثیت سے مدَنی ماحول میں اپنی ذمہ داریاں سر انجام دے رہا ہوں ۔ میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے مدنی ماحول کی برکت سے مذکورہ اسلامی بھائی کی زندگی میں عمل کی بہار آگئی یادرکھیے: قراٰن وحدیث میں نماز پڑھنے کے بے شمار فضائل اور نہ پڑھنے کی سخت سزائیں وارد ہوئی ہیں ۔ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ اپنی مایہ ناز تالیف، 499 صفحات پر مشتمل کتاب بنام ’’نماز کے احکام ‘‘کے صفحہ174 پر حدیثِ پاک نقل فرماتے ہیں : سرکارِ مدینہ، سلطانِ باقرینہ ، قرارِ قلب وسینہ ، فیضِ گنجینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا اِرشادِ حقیقت بنیاد ہے: ـ’’قِیامت کے دن بندے کے اَعمال میں سب سے پہلے نماز کا سُوال ہو گا۔ اگر وہ دُرُست ہوئی تو اس نے کامیابی پائی اور اگر اس میں کمی ہوئی تو وہ رُسوا ہوا اور اس نے نقصان اُٹھایا۔‘‘(کنزالعمال،کتاب الصلاۃ، الباب الاول فی فضل الصلاۃ۔۔۔۔الخ،۷/۱۱۵،حدیث:۱۸۸۸۳)
سرکارِ دو عالم، نورِ مُجَسَّم، شاہِ بنی آدم، رسولِ مُحْتَشَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا ارشادِ مُعَظَّم ہے: ’’جو شخص نماز کی حفاظت کرے، اس کے لیے نماز قیامت کے دن نور، دلیل اورنجات ہو گی اور جو اس کی حفاظت نہ کرے، اس کے لیے بروزِ قیامت نہ نور ہو گا، نہ دلیل اور نہ ہی نجات اور وہ شخص قیامت کے دن فرعون، قارون ، ہامان اور