Brailvi Books

جواری وشرابی کی توبہ
19 - 32
 مسجد میں داخل ہوا تو کیا دیکھتا ہوں کہ مسجد عاشقانِ رسول سے اس طرح بھر چکی ہے کہ تِل دھرنے کی جگہ بھی باقی نہیں ہے۔ بیان سننے کے لئے مسجد کے باہر بھی انتظام کیا گیا تھا۔ باعمامہ نوجوانوں کی کثیر تعداد نے مجھے مزید متأثر کیا کہ ایک یہ ہیں جو سنّتوں بھری زندگی گزار رہے ہیں اور قبر و آخرت کے لئے نجات کا سامان کر رہے ہیں جبکہ میں نیکیوں سے خالی اور سنّتِ رسول سے عاری ہوں ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کابیان شروع ہوا تو شرکائے اجتماع ہمہ تن گوش ہوکر سننے میں گم ہوگئے ۔ میں بھی ایک مناسب جگہ پر بیٹھ گیا اور ہونے والے اصلاحی بیان کو بغور سننے لگا۔ جوں جوں بیان سنتا جا رہاتھا میری قلبی کیفیت تبدیل ہوتی جارہی تھی۔ شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کا بالکل سادہ اور عام فہم بیان، پھر محبت بھرے لہجے میں اصلاح فرمانے کا میٹھا انداز مجھے ایسا بھایا کہ میں نے اپنے تمام گزشتہ گناہوں سے توبہ کی اور سنّتوں کے مطابق زندگی گزارنے اور  گناہوں سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا ۔یوں میری زندگی میں سنّتوں کی بہار آگئی ۔ نمازوں کی پابندی کرنے لگا، داڑھی شریف رکھنے، عمامہ شریف سجانے، اورمدنی حلیہ اپنانے کا پُختہ ارادہ کرلیا اور بعد ازاں دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ہوکر دین و دنیا کی بھلائیاں اکھٹی کرنے میں مصروف ہوگیا مزید مدنی کاموں میں بھی مشغول ہو گیا۔ میرے کردار میں آنے والی اس تبدیلی نے سبھی