لائے جن کے سر پر سبز سبز عمامہ شریف، چہرہ داڑھی کی سنت سے پُرنور اور بدن سفید لباس میں ملبوس تھا۔ مزید حیاء سے نظریں جھکائے رکھنا ان کے کردار کو چار چاند لگا رہا تھا۔ انہوں نے نہایت ہی محبت بھرے انداز میں مجھ سے سلام ومصافحہ کیا اور حال احوال پوچھنے کے بعد اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔ ایک انجان شخص کا اس قدر اپنائیت کے ساتھ بات چیت کرنا بڑا متأثر کن تھا۔ انہوں نے اپنی باتوں کے دوران مجھے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ذاتِ عالی اور دعوتِ اسلامی کی دینی خدمات کے بارے میں بتایا۔ چونکہ اُن دنوں امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ نیکی کی دعوت اور دینی خدمت کے جذبے کے تحت اوکاڑہ تشریف لائے ہوئے تھے لہٰذا اُن اسلامی بھائی نے انفرادی کوشش کرتے ہوئے مجھے آپ دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی زیارت اور آپ کے ملفوظات سے مستفید ہونے کے لئے سنّتوں بھرے اجتماع میں شرکت کی دعوت دی۔ میں نے ان کی دعوت قبول کرلی اور اجتماع میں شرکت کرنے کی ٹھان لی ۔ امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کابیان عشاء کی نماز کے بعد تھا۔
کثیر عاشقانِ رسول بیان شروع ہونے سے پہلے ہی اجتماع گاہ پہنچ گئے تھے مگر میرے دِل پر گناہوں کی ایسی نحوست چھائی ہوئی تھی کہ بیان سننے کے لئے اس لئے تاخیر سے گیا کہ کہیں مَعَاذَاللّٰہ عشاء کی نماز ہی نہ پڑھنی پڑجائے۔ جب