بھی گناہوں پر ہوتا۔ آنکھ اس وقت کھلتی جب نمازِ فجر قضاء ہوچکی ہوتی۔ مجھے نماز قضاء ہونے پر کبھی افسوس نہ ہوتا بلکہ اس کے برعکس صبح اٹھ کر حسب ِعادت ٹیپ ریکارڈر کے ذریعے گانوں سے لطف اندوز ہوتا۔ رات بھی میری اسی معصیت میں گزرتی۔ جب تک موسیقی کی آواز میرے کانوں میں نہ پڑتی، میں نیند سے ہمکنار نہ ہوتا تھا۔ ’’صحبت اثر رکھتی ہے‘‘ کے مصداق برے دوستوں کی صحبت کی وجہ سے اپنے اخلاق وکردار داغ دا رکرنے میں مصروف تھا۔ مجھے اپنی عزت کا خیال تھا نہ ہی کسی کی عفت کا کچھ پاس۔ راہ چلتی لڑکیوں کو تاڑنا، ان پر آوازیں کسنا اور ان کا پیچھا کرنا میرا وتیرہ بن چکا تھا۔ میرے سیاہ کرتوتوں کے سبب رشتہ داروں نے میرے لئے اپنے گھرکے دروازے بند کردیئے تھے اور گھر والے میری حرکتوں کی وجہ سے مجھ پر سخت ناراض تھے۔ مزید داڑھی منڈانا اور نمازیں قضاء کرنا بھی میرے گناہوں میں شامل تھا اور یوں اپنی آخرت برباد کرنا اور گناہ پر گناہ کرکے نامۂ اعمال سیاہ کرنا میرا روز کا معمول تھا۔ وہ تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کرم فرمائے دعوتِ اسلامی اور بالخصوص امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ پر کہ جن کی بدولت میں گناہوں کے تپتے صحرا سے نکل کر دعوتِ اسلامی کی سنّتوں بھری ٹھنڈی ٹھنڈی فضاؤں میں پہنچ گیا۔
سبب کچھ یوں بنا کہ ایک روز میرے پاس ایک اسلامی بھائی تشریف