فرماتے ہیں : ایک بار حضرت سیِّدُنا مُوسیٰ کَلِیْمُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّنَاوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے بارگاہِ خُداوندی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی: یا اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! جو اپنے بھائی کو نیکی کاحُکم کرے اور بُرائی سے روکے۔اُس کی جزاکیا ہے؟ اللّٰہ تبارک وتعالیٰ نے اِرشاد فرمایا: میں اُس کے ہرکلمے کے بدلے ایک ایک سال کی عبادت کا ثواب لکھتا ہوں اور اُسے جہنَّم کی سزا دینے میں مجھے حَیا آتی ہے۔ (مُکَاشَفَۃُ الْقُلُوْب، ص۴۸)
میں نیکی کی دعوت کی دھومیں مچاؤں
بد ی سے بچوں اور سب کو بچا ؤں
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{4}اوباش نوجوان کی توبہ
بہادر نگر، اوکاڑہ (صوبہ پنجاب، پاکستان) کے مقیم اسلامی بھائی اپنی زندگی میں آنے والے مدنی انقلاب کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے منسلک ہونے سے پہلے میری بداعمالیاں عروج پر تھیں ۔ فلم بینی کا اس قدر شیدائی تھا کہ ہر روز جب تک ایک فلم نہ دیکھ لیتا مجھے سکون نہ ملتا تھا۔ اگر کسی دن فلم دیکھنے کا موقعہ نہ ملتا تو اگلے دن دو فلمیں دیکھ کر پچھلے دن کی کسر پوری کرتا تھا۔ گانے باجے سننے کا بھی شوقین تھا اور اس کے بغیر زندگی کو نامکمل تصور کرتا تھا۔ گناہوں میں اس قدر گِھر چکا تھا کہ دن کا آغاز گناہوں سے کرتا اور اختتام