مہکے مہکے مدنی ماحول سے وابستہ ہوگئے بلکہ دوسرے اسلامی بھائیوں کو بھی مدَنی ماحول میں لانے والے بن گئے۔ ہمیں بھی نیکی کی دعوت دیتے رہنا چاہئے اور کسی کے توجہ نہ دینے پر ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے بس اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی رضا اور اس کی رحمت کی طرف نظر رکھنی چاہیے۔ شیخِ طریقت، امیرِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہاپنی مایہ ناز تالیف 616 صفحات پر مشتمل کتاب بنام ’’نیکی کی دعوت‘‘ کے صفحہ 334پر مبلغین کو مدنی پھو ل دیتے ہوئے ارشاد فرماتے ہیں : ’’حوصلہ بڑا رکھنا چاہئے، ناکامی کی تو کوئی وجہ ہی نہیں ، کیوں کہ اچھی نیت کی صورت میں نیکی کی دعوت پر مشتمل انفرادی کوشش کرنے والا ثوابِ آخِرت کا حقدار توہو ہی گیا۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام ابو حامد محمدبن محمدبن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالیْ نقل فرماتے ہیں : کسی بزرگ نے اپنے فرزند کو نصیحت کا مدَنی پھول عنایت کرتے ہوئے فرمایا: نیکی کی دعوت دینے والے کو چاہئے کہ اپنے آپ کو صبر کا خوگر (یعنی عادی) بنائے اور اللّٰہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے نیکی کی دعوت کے ملنے والے ثواب پر یقین رکھے۔ جس کو ثواب کا کامِل یقین ہو اُس کو اِس مبارک کام میں تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔‘‘(اِحیاء ُ العُلوم، ۲/۴۱۰)
اسی ضمن میں ایک حکایت پڑھئے اور نیکی کی دعوت کا جذبہ بڑھائیے۔ حُجَّۃُ الْاِسْلَام حضرت سیِّدُنا امام ابو حامد محمد بن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہ الْوَالی