بِسمِ اللہِِ الْکافِی پڑھوں گا ٭ کیسی ہی سخت بیماری ہوئی صبر کروں گا ٭ اپنے یابچّے یا گھر کے کسی فرد کے مرض یامصیبت میں مبتلا ہونے کا بِلا ضَرورت دوسروں پر اظہار کرنے سے بچ کر ثواب کا حقدار بنوں گا ٭ صِرْف مرد طبیب (ڈاکٹر ) سے علاج کرواؤں گا (جبکہ اسلامی بہنیں بِلا اجازت شَرْعی نامحرم ڈاکٹرسے علاج نہ کروانے کی نیّت کریں ) ٭طبیب کے بتائے ہوئے پرہیز پر اگرقَصْداً ’’ہاں ‘‘ کر دی تو اس ہاں کو نبھاؤں گا ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{69}مریض کی عیادت کی نیّتیں
٭اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کیلئے عِیادت کروں گا٭مریض سے یہ کہوں گا:لَا بَأْسَ طَھُوْرٌ اِنْ شَاءَ اللہ ۱؎ ٭ مریض کو رِسالہ وغیرہ تحفے میں دیکر اُس کی دلجوئی کروں گا ممکن ہوا تو کچھ رسائل اس کے پاس رکھوا دوں گا تا کہ یہ عِیادت کرنے والوں میں بانٹ سکے ٭ مایوس کُن باتوں سے بچتے ہوئے اس کو تسلّی دوں گا٭ مرض اور علاج وغیرہ کی غیرضَروری پوچھ گچھ نہیں کروں گا٭ اس کے پاس زیادہ دیر نہیں رُکوں گا٭اِس سے دُعا کی درخواست کروں گا ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{70}تعزیت کی نیّتیں
٭رضائے الٰہی کیلئے اِتِّباعِ سنّت میں مصیبت زدہ کی تعزیت کرتے ہوئے صَبْر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱؎کوئی حرج کی بات نہیں اللّٰہ تعالٰی نے چاہا تو یہ مرض گناہوں سے پاک کرنے والا ہے۔(بخاری ج۲ ص۵۰۵حدیث۳۶۱۶ )