۱؎ دُعا آیۃُ الکُرسی وغیرہ پڑھ کر سب سے آخِر میں سُوْرَۃُ الْکٰفِرُوْن پڑھوں گا٭سوتے وَقت قَبْر میں سونے کو یاد کروں گا ٭ سیدھی کروٹ پر سیدھا ہاتھ رخسار (یعنی گال) کے نیچے رکھ کر قبلہ رُو سوؤں گا ۲؎٭ معمول کے مطابق اوراد پڑھنے کے بعدکوشش کروں گا کہ زبان پر مسلسل ذِکرُ اللّٰہ جاری رہے اور اِسی حالت میں نیند آ جائے۳؎ خ جاگنے پر مسنون دعا پڑھوں گا۔۴؎
{68}علاج کروانے کی نیّتیں
٭عبادت پر قُوَّت اور رزقِ حلال کمانے پر طاقت حاصِل کرنے کے لئے مستحب سمجھ کر علاج کرواؤں گا ٭دوا یا گولی استِعمال کرنے سے قبل بِسمِ اللہِ الشَّافِی،
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱؎؎سونے کی دعا:اَ للّٰھُمَّ بِاسْمِکَ اَمُوْتُ وَاَحْیَا ۔اے اللّٰہ عَزَّوَجَلََّّ !میں تیرے نام کے ساتھ ہی مرتا ہوں اور جیتا ہوں (یعنی سوتا اور جاگتا ہوں)۔( بُخارِی ج ۴ص۱۹۶ حدیث :۶۳۲۵)۲؎سنّت یوں ہے کہ قُطْب تارے(یعنی شِمال) کی طرف سر کرے اور سیدھی کروٹ پر سوئے کہ سونے میں بھی منہ کعبے کو ہی رہے۔‘‘(فتاوٰی رضویہ ج۲۳ ص ۳۸۵ ) دنیا میں ہر جگہ قُطْب تارہ شمال کی جانب نہیں پڑے گا لہٰذادُنیا کے کسی بھی حصے میں سوئیں اور سریاپاؤں کسی بھی سَمت ہوں بس’’ سیدھی کروٹ اس طرح سوئیں کہ چہرہ قبلے کی طرف رہے،سنّت ادا ہو جائیگی۔۳؎ بہارِ شریعت ج3 ص 436پر ہے: سوتے وقت یادِ خدا میں مشغول ہو، تَہلیل( لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ) و تسبیح ( سبحٰنَ اللّٰہ) وتَحمِید ( اَلحمدُ لِلّٰہ ) پڑھے یہاں تک کہ سو جائے کہ جس حالت پر انسان سوتا ہے اُسی پر اُٹھتا ہے اور جس حالت پر مرتا ہے قِیامت کے دن اُسی (حالت) پر اُٹھے گا۔۴؎جاگنے کی دعا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ الَّذِیْٓ اَحْیَانَا بَعْدَ مَآ اَمَا تَنَا وَاِلَیْہِ النُّشُوْرُ ۔تمام خوبیاں ا للّٰہ عَزَّوَجَل کے لئے ہیں جس نے ہمیں مارنے کے بعد زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔ ( بُخارِی ج ۴ ص۱۹۶ حدیث۶۳۲۵)بہارِ شریعت ج۳ ص 436پر ہے : (نیند سے بیدار ہو کر) اُسی وقت پکّا ارادہ کرے کہ پرہیز گاری و تقویٰ کریگا کسی کو ستائے گا نہیں۔