{55}قفلِ مدینہ لگانے کی نیّتیں
٭بدکلامی اور بد نگاہی کے ساتھ ساتھ فُضُول کلامی اور فُضُول نگاہی سے بچنے کی عادت بنانے کیلئے رِضائے الٰہی کی خاطر زبان اور آنکھوں کا قفلِ مدینہ لگاؤں گا٭ کچھ نہ کچھ اشارے سے یالکھ کر بھی گفتگو کروں گا ہر مَدَنی ماہ کی پہلی پیر شریف کو یومِ قفلِ مدینہ مناؤں گا اور اس میں مکتبۃ المدینہ کا رسالہ’’ خاموش شہزادہ‘‘ پڑھوں یا سنوں گا (تا کہ خاموشی کا مضبوط ذِہن بنے) ٭پیدل چلنے میں بِلا ضَرورت اِدھر اُدھر دیکھنے کے بجائے نیچی نظر،کسی سے گفتگو کرتے ہوئے اپنے قدموں کے قریب ترین فرش پر اور بیٹھے ہونے کی صورت میں اپنی گود میں یا اِسی طرح قریبی حصۂ زمین پر نظررکھنے کی کوشش کروں گا ٭دورانِ سفر گاڑی میں (ڈرائیونگ کے علاوہ ) بِلاضَرورت باہَر دیکھنے سے حتَّی الامکان بچوں گا٭ غفلت بھری خاموشی سے بچنے کیلئے ذکرو دُرُود کی کثرت بھی کروں گااور کچھ نہ پڑھنے کی صورت میں کبھیمکّۂ مکرَّمہاورمدینۂ منوَّر ہ زَادَھُما اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کا تصوَّر باندھوں گا تو کبھی اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی خفیہ تدبیر ، اپنے گناہوں ،موت، خاتمے ، مُردے کی بے بسی، مُردے کے صدمے، قبروآخِرت اور پُل صراط کی دہشت ، جنّت و جہنَّم وغیرہ کے مُتعلِّق غور وفکر اور اپنا مُحاسَبہ کروں گا۔۱؎
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱؎فرمانِ مصطَفٰے صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم: (آخرت کے معاملے میں) گھڑی بھر کے لیے غورو فکر کرنا60 سال کی عبادت سے بہتر ہے۔ (اَ لْجَامِعُ الصَّغِیر لِلسُّیُوْطِیّ ص۳۶۵حدیث ۵۸۹۷ )