{52} بیان سننے کی نیّتیں
{مَدَنی چینل کے ناظِرین بھی ان میں سے حسبِ حال نیّتیں کر سکتے ہیں }
٭ نگاہیں نیچی کیے خوب کان لگاکر بیان سنوں گا ٭ٹیک لگا کر بیٹھنے کے بجائے علمِ دین کی تعظیم کی خاطر جہاں تک ہوسکادو زانو بیٹھوں گا٭ضَرورتاً سمٹ سَرَک کر دوسرے کے لیے جگہ کشادہ کروں گا٭ دھکّا وغیرہ لگا تو صبر کروں گا، گھورنے، جھڑکنے اورالجھنے سے بچوں گا٭ صلُّوا عَلَی الْحبیب،اُذْکُرُوااللہ، تُوبُوٓا اِلَی اللہ وغیرہ سن کر ثواب کمانے اور صدا لگانے والوں کی دل جُوئی کیلئے بُلند آواز سے جواب دوں گا٭بیان کے بعد خود آگے بڑھ کر سلام و مصافَحہ اور انفِرادی کوشش کروں گا ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{53} ملاقات کی نیّتیں
٭ بہ نیّت ادائے سنّت سلام کروں گا٭ سنّت کے مطابِق دونوں ہتھیلیوں سے بِلا حائل مصافَحہ کروں گا٭کسی نے بُلایا ، پکارا یا توجُّہ چاہی تو لَبَّیک کہوں گا ۱؎ ٭ رِضائے الٰہی عَزَّ وَجَلَّ پانے، اتِّباعِ سنّت اور صدقے کا ثواب کمانے اورمسلمان کے دل میں خوشی داخِل کرنے کی نیّت سے مسکراؤں گا ٭ اس کی ملاقات پر دل خوش ہوا تو اس کا اظہار
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
۱ ؎ میرے آقا اعلی حضرت ، امام اَحمد رضا خان علیہ رحمۃُ الرَّحمٰن کے والدِ ماجِد رئیسُ الْمُتَکَلِّمِیْن حضرت مولانانَقی علی خان علیہ رحمۃُ الحَنان لکھتے ہیں: جو آپ (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کو پکارتا جواب میں ’’ لَبَّیک‘‘ فرماتے یعنی حاضرہوں ۔ (سُرُو رُ الْقُلُوب بِذِکرِ الْمَحبوب ص۱۸۲)