{34}فون کرنے یا وُصول کرنے کی نیّتیں
٭ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط پڑھ کر فون کروں گا اور وُصُول کروں گا ٭ مسلمان کو ’’اَلسّلامُ عَلَیکُمْ وَرَحمَۃُ اللہِ وَبَرَکٰتُہٗ‘‘کہہ کر سلام میں پہل کروں گا ٭اگر مجبوری نہ ہوئی توفوراً فون وُصول کرکے مسلمان کی تشویش دُور کروں گا (کیونکہ فون وُصول نہ ہونے کی صورت میں اکثر بے قراری ہوتی ہے) ٭ کم از کم ایک بار صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!کہوں گا ٭دوسروں کی موجودگی میں مخاطَب کی اجازت کے بغِیر فون کا اسپیکر آن نہیں کروں گا٭بغیر اجازت کسی کا فون ریکارڈ نہیں کروں گا٭گناہوں بھری گفتگو (مثلاً غیبت، چغلی وغیرہ) سے بچوں اور بچاؤں گا ٭اِختتام پر بھی سلام کروں گا۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
{35}اپنے پاس فون رکھنے کی نیَّتیں
٭میوزیکل ٹونز سے خود بھی بچوں گا اوردوسروں کو بھی بچاؤں گا٭ ثواب کے کاموں میں استعمال کروں گا( مَثَلاًعُلماء سے مسائل دریافت کرنا، صلۂ رِحمی ، مبارکباد،عیادت، تعزیت ،نیکی کی دعوت ، رزقِ حلال کی جستجووغیرہ) ٭ بِلا سخت ضرورت سوئے ہوئے کو فون کرکے اُس کی نیند خراب نہیں کروں گا ٭ مسجِد ،اِجتماع،مدنی مذاکرے ، مَدَنی مشورے اور مزار شریف پر حاضری وغیرہ مواقِع پر فون بند رکھوں گا ٭کسی کا فون آنے پر خوشی ہوئی تو مسلمان کو راضی کرنے کا ثواب کمانے کی نیَّت سے خوشی کا اِظہار کروں گا۔ ( ناگواری کا اِظہار دل آزار ثابت ہوسکتا ہے)