Brailvi Books

ثواب بڑھانے کے نسخے
20 - 43
{32}قرض لینے کی نیّتیں 
	٭100فیصد لوٹادینے کی نیّت ہو گی تو ہی وہ بھی بقدرِ ضَرورت قرض لوں گا  ۱؎ ٭ طے شدہ وقت کے مطابق اُس کا قرض لوٹا دوں گا ، خوامخواہ چکّر نہیں لگواؤں گا٭ اُس کے مطالَبے کے بِغیر کچھ نہ کچھ زائد ادا کرکے ثواب کماؤں گا٭ قرض ادا کر کے شکر یہ ادا کروں گا اور اہل و مال میں برکت کی دعا دوں گا۔۲؎
{33}قرض دینے کی نیّتیں 
حاجتمند کو قرض دیتے وقت یہ نیتیں کر سکتے ہیں : ٭مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے کا ثواب کماؤں گا٭رِضائے الٰہی کیلئے اس کا دل خوش کروں گا٭مدّت پوری ہونے پر اسے تنگ دست پایا تو مُہْلت دے کر ثواب کماؤں گا۔۳؎
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! 		صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
    ۱ ؎  حاجت کے موقع پر قرض لینے میں حرج نہیں، جبکہ ادا کرنے کا ارادہ ہو اور اگر یہ ارادہ ہو کہ ادا نہ کرے گا (تب) تو حرام کھاتا ہے اور اگر بغیر ادا کیے مرگیا مگر نیّت یہ تھی کہ ادا کردے گا، تو اُمّید ہے کہ آخِرت میں اِس سے مُواخَذہ(یعنی پوچھ گچھ) نہ ہو۔(بہارِ شریعت ج۳ ص۶۵۶)   ۲ ؎ نَسائی نے سیِّدُنا عبدُاﷲ بن ابی رَبیعہ رضی اللّٰہ تعالٰی عنہ سے روایت کی کہتے ہیں: مجھ سے حُضُورِ اقدس صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم نے قرض لیا تھا۔ جب حُضُور (صلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم) کے پاس مال آیا، ادا فرما دیا اور دُعا دی کہ اﷲتعالیٰ تیرے اَہل و مال میں بَرَکت کرے اور فرمایا: ’’قرض کا بدلہ شکریہ ہے اور ادا کر دینا۔‘‘ (نسائی ص۷۵۳حدیث۴۶۹۲، بہارِ شریعت ج۲ ص۷۵۴)
۳؎ایک شخص (زمانۂ گزشتہ میں) لوگوں کو اُدھار دیا کرتا تھا، وہ اپنے غلام سے کہا کرتا:’’ جب کسی تنگدست مَدیُون(یعنی مقروض) کے پاس جانا اُس کو معاف کردینا اس اُمّید پر کہ خدا ہم کو معاف کردے، جب اُس کا انتقال ہوا اﷲ تعالیٰ نے مُعاف فرما دیا ۔ ‘‘ (بخاری ج۲ص۴۷۰حدیث۳۴۸۰،بہارِ شریعت ج۲ ص۷۶۲ )