اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم کے پیچھے (حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ساتھ ایک سواری پر) سوار تھا، حضور عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے مجھ کو فرمایا : اے لڑ کے ! حقوق الٰہی کی حفاظت کر اللہ تعالیٰ تیری حفاظت کرے گا( اپنے ہر کام ، ہر چیز میں احکام الٰہیہ کا لحاظ رکھ، اللہ تجھ کو دین اور دنیا کی آفتوں سے بچائے گا)تو اسے اپنے سامنے پائے گا (ہر مصیبت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت تیرے دل پر وارد ہوگی جس کے اثر سے تیرے دل پر غم طاری نہ ہوگا) اور جب کچھ مانگے تو اللہ سے مانگ، جب تو مدد مانگے تو اللہ سے مانگ اور یقین رکھ کہ اگر ساری دنیا کے لوگ اس پر متفق ہو جائیں کہ تجھ کو کچھ نفع پہنچائیں تو وہ تجھ کو کچھ نفع نہیں پہنچاسکیں گے، تجھ کووہی نفع پہنچے گا جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیاہے اور اگر اس پر متفق ہوجائیں کہ تجھے کچھ نقصان پہنچائیں تو ہر گز نقصان نہیں پہنچاسکتے، تجھ کو وہی نقصان پہنچے گا جو اللہ نے تیرے لیے لکھ دیا ہے ، قلم اٹھ چکے (تاقیامت جو کچھ ہونے والا ہے سب کچھ لکھا جاچکا، بار بار لکھا نہیں جاتا)دفتر خشک ہوچکے ۔(1) (احمد، ترمذی، مشکوٰۃ)
خدا سے مانگ جو کچھ مانگنا ہو اے اکبر یہی وہ در ہے کہ ذلت نہیں سوال کے بعد
(لسان العصر اکبر الٰہ آبادی)
جنت والوں کے بادشاہ
ایک مرتبہ سرکار دو عالم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم نے صحابہ عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان سے فرمایا :
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
2…ترمذی،کتاب الزھد، باب ماجاء فی الکفاف والصبر علیہ ،۴/۱۵۶، الحدیث :۲۳۵۶