Brailvi Books

صحابیات اور پردہ
52 - 55
بھی مجھے ہمیشہ کے لیے نجات مل گئی۔ اس کی صُورَت کچھ یوں بنی کہ خوش قسمتی سے ایک بار مجھے تبلیغِ قرآن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے تحت ہونے والے اسلامی بہنوں کے سنّتوں بھرے اجتماع میں جانے کا موقع مل گیا، وہاں حَیا سے معمور مَدَنی ماحول دیکھ کر بہت اچھا لگا، مزید سنّتوں بھرا بیان اور دعا سن کر مجھ پر رِقَّت طاری ہوگئی ، دورانِ دُعا بے پردگی اور دیگر گناہوں سے توبہ کی اور سنّتوں پر عَمَل کرنے کے جذبے کے تحت مَدَنی ماحول اِخْتِیار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔جلدہی مَدَنی بُرقع میرے لِباس کا حصّہ بن گیا اور میں آخِرَت سنوار نے، قَبْر روشن کرنے اور شَفاعَتِ رَسول کی حقدار بننے کے لیے راہِ ہِدَایَت پر گامزن ہوگئی ، مزید نفس و شیطان کے مکروفریب سے بچنے کے لیے  پندرھویں صدی کی عظیم علمی و رُوحانی شخصیت، شیخِ طریقت، امِیرِ اہلسنّت، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد اِلیاس عطّار قادری رَضَوِی ضِیائی دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے ذریعے سلسلہ عالیہ قادریہ عطاریہ میں داخِل ہوگئی ، ایک ولی کامِل کا دامَن کیا تھاما علمِ دین کا شوق دل میں پیدا ہوگیا اور میں اپنے دل کو نورِ قرآن سے مُنوّر کرنے کیلئے مُعَلِّمہ کورس میں شامِل ہوگئی، تادمِ تحریر مُعَلِّمہ کورس کرنے کے بعد مدرسۃ المدینہ(للبنات )میں مَدَنی منّیوں کو کلامِ اِلٰہی پڑھانے کے ساتھ ساتھ ذیلی سطح پر خادِمہ کی حیثیت سے قَبْر و آخِرَت کو سنوار نے کی کوشش میں مصروف ہوں۔