باب المدینہ(کراچی )شیر شاہ عالمگیر روڑ کی ایک اِسلامی بہن مَدَنی ماحول کی برکتوں کا ذکر کرتے ہوئے کچھ یوں بیان کرتی ہیں: دعوتِ اسلامی کے سنّتوں بھرے مَدَنی ماحول سے منسلک ہونے سے قبل افسوس! جہاں میں فکرِ آخِرَت سے نابلد تھی وہیں مَقْصَدِ حَیات سے بے خبر زِنْدَگی کی اَنمول سانسیں برباد کررہی تھی۔ وہ والدین جن کی خِدْمَت سراپا برکت میں دنیا وآخِرَت کی سُرخروئی پوشیدہ ہے جب مجھے کسی بات کا حکْم دیتے تو عَمَل کرکے اَجر وثواب کی حقدار بننے کے بجائے حکْم عُدُولی کرکے نارِ جہنّم کا سامان کرتی۔
شیطان بدبخت ہرلمحے اِیمان کو برباد کرنے کے ہتھکنڈے اپناتا اور گناہوں پر اکساتا ہے اور ان کی رَغْبَت دلاکر آخِرَت برباد کرنا چاہتا ہے، مگر ہائے افسوس! میں اس کے مکروفریب سے بچ کر قرآن وسنّت کے مُطابِق زِنْدَگی گزارنے کے بجائے خوب بال سنوار کر گلے میں دوپٹہ ڈال لیتی،یوں بے پردگی کے باعِث نامحرم لوگوں کے سامنے آکر جہاں خود گناہِ کبیرہ میں مبتلا ہوتی وہیں دیگر کو بھی بدنِگاہی کے وبال کا شِکار کرتی۔ میں اس بے پردگی والی عادت پر بہت خوش تھی، مگر زِنْدَگی کی ان خَرْمستیوں میں یہ بھول چکی تھی کہ یہ گناہ مجھے آخِرَت میں برباد کرسکتاہے۔پھر اچانک میری زِنْدَگی میں ایک اِنقلاب برپا ہوا اور میں اس گناہ کی تباہ کاریوں کے بارے میں نہ صرف بخوبی جان گئی بلکہ بے پردگی کے عِفْرِیت سے