Brailvi Books

صحابیات اور پردہ
48 - 55
عمرہ کر سکتی ہے مگر عمرہ چُونکہ فرض یا واجِب نہیں اگر عورت اِس کے لئے نہ نکلے تو کسی قسم کا گُناہ بھی نہیں۔(۱)
چند آدابِ حیات
پیاری پیاری اسلامی بہنو!صحابیات كی زندگیاں واقعی ہمارے لیے مینارۂ  نور کی حیثیت رکھتی ہیں، لہٰذا ہمارے لیے زندگی کو شریعت  کے سنہرے اُصولوں کے مُطابِق گزارنے کی کوشش کرنے میں صحابیات کی زندگیوں سے ماخوذ وہ مَدَنی پھول انتہائی اَہَمِیَّت کے حامِل ہیں جو حضرتِ سیِّدُنا اِمام محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالوَالِی نے نَقْل فرمائے ہیں۔ چنانچہ آپ فرماتے ہیں: 
٭☜عورت کو چاہئے کہ ہمیشہ اپنے گھرکی چاردیواری میں گوشہ نشین رہے۔
٭☜ (بِلاضرورت) چھت پر بار بار نہ چڑھے۔
٭☜اپنی گفتگو پر پڑوسیوں کو آگاہ نہ کرے۔ (یعنی اتنی آوازمیں گفتگو کرے کہ اس کی آواز چار دیواری سے باہَرنہ جائے) 
٭☜بِلا ضرورت پڑوسیوں کے پاس آیا جایا نہ کرے۔
٭☜جب اس کاشوہراس کی طرف دیکھے تواُسے خوش کرے۔
٭☜شوہرکی غیرمَوجُودَگی میں اُس کی عزّت کی حِفَاظَت کرے۔

(۱) ………پردے کے بارے میں سوال جواب، ص۱۰۰