اب ماموں زاد، خالہ زاد، چچا زاد، پھوپھی زاد، چچی، تائی مُمانی نیز پڑوسنوں سے پردے کا ذہن نہیں رہا۔(۱)
٭☜خالہ زاد ، ماموں زاد، پھُوپھی زاد، چَچا زاد،تایازاد، دیور و جیٹھ، خالو، پھوپھا، بہنوئی بلکہ اپنے نامحرم پیرو مرشِد سے بھی پردہ کیجئے ۔ نیز مرد کا بھی اپنی مُمانی،چچی،تائی،بھابھی اور اپنی زوجہ کی بہن وغیرہ رشتے داروں سے پردہ ہے۔ مُنہ بولے بھائی بہن،منہ بولے ماں بیٹے اورمنہ بولے باپ بیٹی میں بھی پردہ ہے حتّٰی کہ لے پالک بچہ (جب مرد و عورت کے مُعامَلات سمجھنے لگے تو) اس سے بھی پردہ ہے البتّہ دودھ کے رشتوں میں پردہ نہیں مَثَلاً رَضاعی ماں بیٹے اور رَضاعی بھائی بہن میں پردہ نہیں۔(۲)
٭☜اگر ایک گھر میں رَہتے ہوئے عورت کیلئے قریبی نامَحرم رشتہ داروں سے پردہ دشوارہو تو چہرہ کھولنے کی تو اجازت ہے مگر کپڑے ہرگز ایسے باریک نہ ہوں جن سے بدن یا سر کے بال وغیرہ چمکیں یاایسے چُست نہ ہوں کہ بدن کے اعضا جسم کی ہیئت (یعنی صورت و گولائی) اور سینے کا اُبھار وغیرہ ظاہِر ہو۔(۳)
٭☜مسلمان عورت کاکافِرہ سے اُسی طرح پردہ ہے جس طرح اجنبی مرد سے۔
(۱) ………باحیا نوجوان، ص ۴۸
(۲) ………کربلا کا خونی منظر، ص ۳۳
(۳) ………غفلت، ص