Brailvi Books

صحابیات اور پردہ
36 - 55
 جسم بھی انہیں نظر آ رہا ہے۔(۲)
فروغ و حفاظتِ حجاب میں صحابیات کا کردار
پیاری پیاری اسلامی بہنو!دیکھا آپ نے صحابیات پردے کا کس قدر اِہتِمام  کرتی تھیں اور ایسا کیوں نہ ہوتا کہ یہ وہ پاک ہستیاں تھیں جنہوں نے آقائے دو۲جَہان، رَحْمَتِ عَالَمِیَّان صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دربارِ گوہر بار سے جو کچھ سیکھا اُس پر عَمَل پیرا ہونا  نہ صِرف خود پر لازِم کر لیا بلکہ دوسروں کے لیے بھی لازِم جانا تاکہ ان کی زندگیاں بھی اَحْکامِ خُدا و رسول پر عَمَل کرنے سے مینارۂ نور بن جائیں۔ جیسا کہ پردے کے بارے میں سوال جواب صَفْحَہ 214پر ہے:ایک مرتبہ اُمُّ المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی خِدْمَت سراپا غیرت میں ان کے بھائی حضرت سَیِّدُنا عبدُ الرَّحمٰن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیٹی سَیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا حاضِر ہوئیں،انہوں نے بارِیک دوپٹّا اَوڑھ رکھا تھا،حضرت سَیِّدَتُنا  عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اس دوپٹّے کو پھاڑ دیا اور انہیں موٹا دوپٹّا اوڑھا دیا۔(۲) مُفَسّرِ شہیر حکیمُ الامَّت حضرتِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان اس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں: یعنی اس دوپٹّہ کو پھاڑ کر دو۲ رُومال بنا دئیے تاکہ 

(۱) ………مراٰۃ المناجیح، قبروں کی زیارت، تیسری فصل، ۲/۵۲۷
 (۲)……… موطا امام مالك،کتاب اللباس، باب ما یکرہ للنساء … الخ، ص٤٨٥، حدیث:١٧٣٩