کیونکہ نہ خاوند سے حِجاب ہوتا ہے نہ والِد سے، (مگر) جب سے حضرتِ عُمَر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)میرے حُجرے میں دَفن ہو گئے تب سے میں بغیر چادر اَوڑھے اور پردہ کا پورا اِہتِمام کئے بغیر حجرے شریف میں نہ گئی کہ حضرتِ عُمَر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)سے شَرْم و حَیا کرتی ہوں۔
اس حدیث سے بَہُت مسائل مَعلوم ہو سکتے ہیں: ایک یہ کہ مَیّت کا بعدِ وفات بھی اِحْتِرام چاہئے۔ فقہا فرماتے ہیں کہ مَیّت کا ایسا ہی اِحْتِرام کرے جیسا کہ اس کی زِنْدَگی میں کرتا تھا۔ دُوسرے یہ کہ بزرگوں کی قُبور کا بھی اِحْتِرام اور ان سے بھی شَرْم و حَیا چاہئے۔ تیسرے یہ کہ مَیّت قبر کے اندر سے باہَر والوں کو دیکھتا اور انہیں جانتا پہچانتا ہے۔ دیکھو! حضرتِ عُمَر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)سے عائشہ صِدِّیقہ(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا)ان کی وفات کے بعد شرم و حَیا فرما رہی ہیں اور اگر آپ باہَر کی کوئی چیز نہ دیکھتے تو اس حَیا فرمانے کے کیا معنیٰ۔ چوتھے یہ کہ قبر کی مٹّی، تختے وغیرہ تو مَیّت کی آنکھوں کے لیے حِجاب نہیں بن سکتے مگر زائر (یعنی زِیارَت کرنے والا) کے جسم کا لباس ان کے لیے آڑ ہے، لہٰذا مَیّت کو زائر(زیارت کرنے والا) ننگا نہیں دکھائی دیتا ورنہ حضرتِ عائشہ صِدِّیقہ (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا) کا چادر اَوڑھ کر وہاں جانے کے کیا معنیٰ تھے، یہ قانونِ قدرت ہے۔ لہٰذا حدیث پر یہ اِعتراض نہیں کہ جب حضرتِ عُمَر (رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)قبر کے اندر سے زائر کو دیکھ رہے ہیں تو زائر کے کپڑوں کے اندر کا