Brailvi Books

صحابیات اور پردہ
34 - 55
 اور نفسانفسی کے دَور میں جہاں ہر طرف عزتوں کے سوداگر موجود ہیں ہم سے زندہ وغیرمحرم مَردوں  سے پردے کا کما حقہ اِہتِمام ممکن نہیں رہا اور ایک صحابیات طیبات تھیں جنہوں نے عزّتوں کے مُحافِظوں کی مَوجُودَگی میں زندہ لوگ تو ایک طرف جہانِ فانی سے کوچ کر جانے والوں سے بھی پردے کا اِہتِمام کر کے تاریخ کے سنہری اَورَاق میں رنگ بھر دئیے ۔ چنانچہ، 
اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتی ہیں:جب میں اپنے اس گھر میں داخِل ہوتی جس میںرسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور میرے والِد مدفون ہیں تو اس خیال سے اپنی اوڑھنی نہ لیتی کہ یہاں تو  میرے شوہر اور والِد ہیں، مگر جب سے عُمَر فاروق رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ وہاں دفن ہوئے تو خُدا کی قسم!  میں ان سے  شَرْم کے باعِث با پردہ حاضِر ہوتی ہوں۔ (۱)
شرحِ حدِیث
حکیم ُالاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان مِراٰۃُ المناجیح جلد 2 صَفْحہ 527 پر اس حدیثِ پاک کی شرح میں فرماتے ہیں: یعنی جب تک میرے حُجرے میں رسول اللہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّم اور حضرت ابوبکر صِدِّیق(رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ)مدفون رہے تب تک تو میں سَر کھولے یا ڈھکے ہر طرح حُجرے شریف میں چلی جاتی تھی 


(۱) ………مسند احمد، مسند عائشه رضی الله عنھا، ١٠/٤٥٧، حدیث:٢٦٤٠٨