ہم اپنی سہیلیوں کے ساتھ اپنے چہرے کھلے رکھتی تھیں مگر جب دیگر لوگوں کے قافلے ہم پر گزرتے تو چونکہ ان میں مرد بھی ہوتے تھے،اس لیے ہم ان سے پردہ کرنے کی کوشش کرتی تھیں،یعنی جب وہ ہمارے سامنے سے گزرتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنے سر سے چہرے پر چادر ڈال لیتی مگر اس طرح کہ چادر کا یہ حِصّہ چہرے سے مَس (یعنی ٹَچ)نہ کرے بلکہ اس سے علیحدہ رہے کہ اس میں پردہ بھی ہو جاتا اور نِقاب چہرے سے مَس بھی نہ ہوتا۔ پھر جب وہ آگے بڑھ جاتے تو ہم منہ سے چادر ہٹا لیتی تھیں کیونکہ اب کوئی نامحرم مرد نہ رہتا تھا جس سے پردہ ہو۔(۱)
اسی حدیث کی شرح میں مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان یہ بھی فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے یہ ثابِت نہیں ہوتا کہ وہ حضرات اپنے مدینہ والے (یعنی اپنے شہر کے )مردوں سے پردہ نہ کرتی تھیں،جیسا کہ بعض لوگوں نے سمجھا،پردہ ہر اس مرد سے واجِب ہے جس سے نِکاح دُرُسْت ہو،خواہ مدینہ (یعنی اپنے شہر یا گاؤں) کا ہو یا باہَر کا۔(۲)
جہانِ فانی سے کوچ کر جانے والوں سے پردہ
پیاری پیاری اسلامی بہنو! ہائے افسوس! ایک ہم ہیں کہ آج کے اس پُر فِتَن
(۱) ………مراٰۃ المناجیح ،باب محرم کس چیز سے بچے، دوسری فصل، ۴/ ۱۸۸-۱۸۹بتغیر
(۲) ………المرجع السابق، ص ۱۸۸