حالتِ احرام میں بھی پردہ
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اِحرام میں منہ چُھپانا عورت کے لیے بھی اسی طرح حرام ہے جیسا کہ مرد کیلئے حرام ہے۔ مگر اس حوالے سے صحابیات کی زندگیوں کے جو سنہری گوشے تاریخ میں درج ہیں وہ اپنی مِثال آپ ہیں۔ جیسا کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا فرماتی ہیں: قافلے ہمارے پاس سے گزرتے جبکہ ہم اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ اِحرام باندھے ہوئے تھیں، جب وہ لوگ ہمارے سامنے سے گزرتے تو ہم میں سے ہر ایک اپنی جِلْبَاب (برقع نما بڑی چادر) سر سے نیچے لٹکا لیتی (اس اِحتیاط سے کہ منہ پر نہ لگے)اور جب وہ آگے گزر جاتے تو ہٹا دیتی۔(۱)
معلوم ہواعورتوں کے لیے اگرچہ اِحرام میں منہ چھپانا حرام ہے مگر اجنبی لوگوں سے اس طرح پردہ کرنا کہ وہ انہیں دیکھ نہ پائیں تقوٰی و طہارت کی اعلیٰ مثال ہے۔ جیسا کہ مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْمَنَّان نے مِراٰۃُ المناجیح میں اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے اس قول کی جو شرح بیان کی ہے، اگر اسے سامنے رکھ کر آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکے اس قول کو مُلاحَظہ کیا جائے تو صُورَت کچھ یوں بنے گی: گویا آپ نے یہ فرمایا کہ ویسے تو
(۱) ……… ابو داود،کتاب المناسك،باب فی المحرمة تغطی وجھھا، ص٢٩٧، حدیث:١٨٣٣