بیٹا کھویا ہے، حیا نہیں
ابو داود شریف میں ہے کہ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ خلاد رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا بیٹا جنگ میں شہید ہو گیا۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا ان کے بارے میں معلومات حاصِل کرنے کیلئے نِقاب ڈالے بارگاہِ رسالت میں حاضِر ہو ئیں تو اِس پر کسی نے حیرت سے کہا: اِس وقْت بھی باپردہ ہیں ! کہنے لگیں: میں نے بیٹا ضَرور کھویا ہے، حَیا نہیں کھوئی۔(۱)
حالت مرض میں بے پردہ ہو جانے کی فکر
حضرت سیِّدُنا عطا بن ابو رَباح رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں کہ حضرت سیِّدُنا ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے مجھ سے فرمایا: میں تمہیں جنَّتی عورت نہ دِکھاؤں؟ میں نے عرض کی:کیوں نہیں۔ فرمایا: یہ حبشی عورت(جنتی ہے)۔ اِس نے نبی پاک صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بارگاہ میں آ کر عرض کی:یَارسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! مِرگی کے مَرض کی وجہ سے میرا سِتْر (پردہ )کھل جاتا ہے آپ میرے لیے دُعا فرمائیے۔تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِرشَاد فرمایا: چاہو تو صَبْر کرو تمہارے لیے جنّت ہے اور اگر چاہو تو میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ سے تمہارے لیے دُعا کروں کہ وہ تجھے عافیت عطافرما ئے۔ اِس نے عرض کی:میں صَبْر کروں گی۔ پھر عرض کی: دُعا کیجئے بَوَقْتِ مِرگی میرا پردہ نہ کُھلا کرے۔چنانچہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ
(۱) ………ابو داود ،کتاب الجهاد، باب فضل قتال ………الخ، ص٣۹٧، حدیث:٢٤٨٨ ملتقطاً