Brailvi Books

صحابیات اور پردہ
29 - 55
 صَبْری کا مُظاہَرہ کیا جاتا ہے حالانکہ ایک مسلمان کیلئے بیماری و مصیبت باعِثِ نُزولِ رَحمت  اور گناہوں کا کفّارہ ہوتی ہے۔ جیسا کہ شہنشاہِ مدینہ،قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے: مومن کو جو تھکاوٹ، بیماری، پریشانی، خوف، رنج اور غم پہنچتا ہے یہاں تک کہ کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے عِوَض اس کے گناہ مِٹا دیتا ہے۔(۱)
پیاری پیاری اسلامی بہنو! معلوم ہوا کسی بھی بیماری یا دکھ تکلیف پر کبھی واویلا کرنا چاہئے نہ آپے سے باہَر ہونا چاہئے بلکہ ہمیشہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے دامَنِ رحمت سے وابستہ رہنا چاہئے، اگرچہ اس میں کوئی شک نہیں کہ جُنُون و مِرگی وغیرہ ایسی مُوذی بیماریاں اور حد دَرَجہ کسی قریبی عزیز مثلاً ماں، باپ، بہن ، بھائی،شوہر، بیوی یا اَولاد وغیرہ کے اس جہانِ فانی سے کوچ کر کے ہمیشہ کے لیے جُدا ہو جانے کا دکھ ایسی مصیبتیں ہیں جو بندے کو ہوش سے بیگانہ کر دیتی ہیں اور یہ عام مُشاہَدہ ہے کہ اس وَقْت اکثر اِسلامی بہنیں مصیبت اور دکھ کے عالَم میں پردے کے اِہتِمام سے غافِل ہو کر بے پردگی کا مُرْتکِب ہو جاتی ہیں، مگر قربان جائیں صحابیات طیبات رضی اللّٰہ تعالٰی عَنْہُنَّ کے جذبۂ اِیمانی پر! جنہوں نے راہِ خدا میں مصائب و تکالیف کے پہاڑوں کو بھی خندہ پیشانی سے قبول کیا لیکن اَحْکاماتِ اِسلام کا دامَن کبھی کسی حال میں ہاتھ سے نہ جانے دیا۔ چنانچہ، 

(۱) ……… بخاری،کتاب المرضی، باب ماجاء فی کفارة المرض، ص١٤٣١، حدیث:٥٦٤١