Brailvi Books

صحابیات اور پردہ
28 - 55
 کُفّارِ بد انجام آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو اِحتِرام کی نظر سے دیکھتے تھے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو امین اور صادِق کے لقب سے یاد کرتے تھے۔ مگر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے جُونہی علَی الْاِعلان اِسلام کا ڈنکا بجانا شروع کیا وُہی کُفّارِ بداَطوار طرح طرح سے ستانے، مذاق اُڑانے اور گالیاں سنانے لگے، صِرف یہی نہیں بلکہ جان کے در پے ہو گئے، مگر قربان جائیے ! سرکارِ نامدار ، اُمّت کے غم خوار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر کہ آپ نے بِالکل ہمّت نہ ہاری ،ہمیشہ صَبْر ہی سے کام لیا ۔اب اسلامی بہن صَبْرکرتے ہوئے غور کرے کہ میں جب تک فیشن ایبل اور بے پردہ تھی میرا کوئی مذاق نہیں اُڑاتا تھا، جُونہی میں نے شَرعی پردہ اپنایا، ستائی جانے لگی۔ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کا شکر ہے کہ مجھ سے ظُلْم پر صَبْر کرنے کی سنّت اَدا ہو رہی ہے ۔مَدَنی اِلتجا ہے کہ کیسا ہی صَدمہ پہنچے صَبْر کا دامَن ہاتھ سے مَت چھوڑئیے، نیز بِلا اجازتِ شَرعی ہرگز زَبان سے کچھ مت بولئے۔ حدیثِ قُدسی میں ہے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ فرماتا ہے:اے ابنِ آدم ! اگرتُو اوّل صَدمے کے وَقْت صَبْر کرے اور ثواب کا طالِب ہو تو میں تیرے لیے جنَّت کے سِوا کسی ثواب پر راضی نہیں۔(۱)
مرض یا کسی مصیبت میں پردے کا اہتمام کرنا کیسا؟
افسوس!آج کل بیماری و مصیبت پر صَبْر کا دامَن تھامے رہنے کے بجائے بے

(۱) ………ابن ماجه، کتاب الجنائز، باب ماجاء فی الصبر علی المصیبة، ص٢٥٦، حدیث: ١٥٩٧
پردے کے بارے میں سوال جواب، ص۵۲ تا ۵۵  ملتقطاً