Brailvi Books

صحابیات اور پردہ
27 - 55
اور سینے کا اُبھار وغیرہ ظاہِر ہو ۔(۱)
پردہ دار کے لیے آزمائش
آج کل پردہ کرنے والیوں کا مُلانی کہہ کر گھر میں مذاق اُڑایا جاتا ہے،کبھی (کوئی اسلامی بہن ) عورَتوں کی کسی تقریب میں مَدَنی بُرقع اوڑھ کر چلی جائے تو!!! ٭☜ کوئی کہتی ہے: ارے ! یہ کیا اَوڑھ رکھا ہے اُتارواِس کو! ٭☜کوئی بولتی ہے: بس ہمیں معلوم ہو گیا ہے کہ تم بَہُت پردہ دار ہو اب چھوڑو بھی یہ پردہ وَردہ! ٭☜کوئی کہتی ہے، دنیابَہُت ترقّی کر چکی ہے اور تم نے یہ کیا دَقْیا نُوسی انداز اپنا رکھا ہے! وغیرہ ۔ اِس طرح کی دل دُکھانے والی باتوں سے شَرعی پردہ کرنے والی کا دل ٹوٹ پھوٹ کر چِکناچُور ہو جاتا ہے۔ اگرچہ واقعی یہ حالات نہایت ہی نازُک ہیں  اور شَرعی پردہ کرنے والی اسلامی بہن سخت آزمائش میں مبتَلا رَہتی ہے مگر اسے ہمّت نہیں ہارنی چاہیے۔ مذاق اُڑانے یا اِعتِراض کرنے والیوں سے زور دار بحث شُروع کر دینا یا غصّے میں آ کر لڑ پڑنا سخت نقصان دِہ ہے کہ اس طرح مسئلہ حل ہونے کے بجائے مزید اُلَجھ سکتا ہے۔
ایسے مَوقَع پر یہ یاد کر کے اپنے دل کو تسلّی دینی چاہیے کہ جب تک تاجدارِ رسالت صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عام اِعلانِ نبوّت نہیں فرمایا تھا اُس وَقت تک

(۱) ……… پردے کے بارے میں سوال جواب، ص ۵۰ تا ۵۲، ملتقطاً