Brailvi Books

صحابیات اور پردہ
26 - 55
صحیح بخاری میں حضرت سیّدُنا عُقْبہ بن عامِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے، پیکرِ شرم وحیا، مکّی مَدَنی مصطَفٰے، محبوبِ خدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: عورَتو ں کے پاس جانے سے بچو۔ایک شخص نے عرض کی:یا رسولَ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم     (۱)   د َیوَرکے مُتَعَلِّق کیا حکْم ہے؟ فرمایا : دَیوَر موت ہے۔ دَیوَر کا اپنی بھابھی کے سامنے ہونا گویا موت کا سامنا ہے کہ یہاں فِتنہ کا اندیشہ زِیادہ ہے۔ مفتیِ اعظم پاکستان حضرتِ وقارِ مِلّت مولانا وقارُ الدّین عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْمُبِین فرماتے ہیں:ان رشتہ داروں سے جو نامَحرم ہیں(پردہ بہت دشوار ہو تو ان سے) چہرہ، ہتھیلی، گٹے، قدم اورٹَخنوں کے علاوہ سِتْر( پردہ ) کرنا ضَروری ہے ،زینت بناؤ سنگھار بھی ان کے سامنے ظاہِر نہ کیا جائے ۔(۲)  بَہَرحال اگر ایک گھر میں رَہتے ہوئے عورت کیلئے قریبی نامَحرم رشتہ داروں سے پردہ دُشْوَارہو تو چہرہ کھولنے کی تو اِجازَت ہے مگر کپڑے ہرگز ایسے باریک نہ ہوں جن سے بدن یا سر کے بال وغیرہ چمکیں یا ایسے چُست نہ ہوں کہ بَدَن کے اَعضا جسم کی ہیئت(ہَے اَت، یعنی صورت و گولائی) 


(۱) ……… بخاری ، کتاب النکاح، باب لا یخلون رجل …الخ، ص١٣٤٤، حدیث:٥٢٣٢
 (۲)………وقا ر الفتاوٰی،  ۳/۱۵۱