Brailvi Books

صحابیات اور پردہ
25 - 55
پردہ مگر کن سے؟
پیاری پیاری اسلامی بہنو! عورت کا ہر اجنبی بالِغ مرد سے پردہ ہے۔ جومَحرم نہ ہو وہ اجنبی ہوتا ہے، مَحرم سے مُراد وہ مرد ہیں جن سے ہمیشہ کیلئے نِکاح حرام ہو۔ جبکہ مَحارِم میں تین۳ قسم کے اَفراد داخِل ہیں:
Ĝ1 Ę☜نَسَب کی بنا پر جن سے ہمیشہ کے لیے نِکاح حَرام ہو۔
Ĝ2 Ę☜رَضاعت یعنی دُودھ کے رشتے کی بِنا پر جن سے نِکاح حَرام ہو۔ 
Ĝ3 Ę☜مُصاہَرَت یعنی سُسرالی رِشتے کی وجہ سے جن سے نِکاح حَرام ہو جیسے سُسر کے لیے بہو یا ساس کے لیے داماد۔ 
(پہلی قسم یعنی)نسبی مَحارِم کے سِوا (باقی)دونوں طرح کے مَحارِم سے پردہ واجِب بھی نہیں اور منع بھی نہیں، خُصُوصاً جب عورت جوان ہویا فتنے کا خوف ہو تو پردہ کرے(۱)البتہ!سُسرال میں دَیْوَرو جَیٹھ وغیرہ سے کس طرح پردہ کیا جائے؟ سارا دن پردہ میں رَہنا بَہُت دُشوار ،گھر کے کام کاج کرتے وَقت کیسے اپنے چہرہ کوچُھپائے؟چنانچہ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ طریقت، امیر اہلسنت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ  400 
صَفحات پر مشتمل کتاب پردے کے بارے میں سوال جواب صَفْحَہ50پر فرماتے ہیں:گھر میں رَہتے ہوئے بھی بِالخصوص دَیْوَر وجیٹھ وغیرہ کے مُعامَلہ میں مُحتاط رَہنا ہوگا۔


(۱) ……… پردے کے بارے میں سوال جواب، ص ۴۴، ۴۵  ملتقطاً