ہیں: ایک مرتبہ رسولِ بے مثال، بی بی آمنہ کے لال صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی خِدْمَتِ اَقدس میں سفید رنگ کے مِصری کپڑے لائے گئے جوکہ قدرے باریک تھے۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک کپڑا مُجھے عطا کرتے ہوئے اِرشَاد فرمایا:اس کے دو ٹکڑے کر کے ایک سے اپنی قمیص بنا لینا جبکہ دوسرا اپنی بیوی کو دے دینا جسے وہ اپنا دوپٹا بنالے۔ فرماتے ہیں: جب میں واپس مڑا تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مُجھےاس بات کی تاکید فرمائی کہ اپنی بیوی کو یہ حکْم بھی دینا کہ اس کے نیچے دُوسرا کپڑا لگا لے تاکہ بَدَن کی صِفَت معلوم نہ ہو۔(۱)
نیز یہ بھی یاد رکھئے کہ اتنا دَبِیز (یعنی موٹا) کپڑا جس سے بَدَن کا رنگ نہ چمکتا ہو مگر بَدَن سے ایسا چِپکا ہو کہ دیكھنے سے عُضْوْ کی ہَیئَت(ہَے اَتْ یعنی شکل و صورت اور گولائی وغیرہ) معلوم ہوتی ہو۔ایسے کپڑے سے اگرچِہ نَماز ہو جائے گی مگراُس عُضْوْکی طرف دوسروں کو نِگاہ کرنا جائز نہیں۔(۲) اور ایسا لِباس لوگوں کے سامنے پہننا بھی مَنع ہے اور عورَتوں کے لیے بدرَجَۂ اَولیٰ مُمانَعَت۔ (۳)بعض وہ اِسلامی بہنیں جو مَلمَل وغیرہ کی ایسی باریك چادَرنَماز میں اَوڑھتی ہیں جس سے بالوں کی سیاہی(کالک) چمکتی ہے یا ایسا لِباس پہنتی ہیں جس سے اَعضا کا رنگ نظر آتا ہے جان لیں کہ ایسے لِباس میں بھی نَماز نہیں ہوتی۔
(۱) ………ابو داود،کتاب اللباس، باب فی لبس القباطی للنساء، ص ٦٤٧، حدیث: ٤١١٦
(۲)………ردالمحتار، کتاب الصلاة، مطلب الی وجه الامرد، ٢/١٠٣
(۳) ……… بہارِشريعت، نماز کی شرطوں کا بیان، ۱/۴۸۰