Brailvi Books

صحابیات اور پردہ
23 - 55
پردے کا اِہتِمام ضَرور کرے کہ جس قدر رب کی بارگاہ میں حاضِر ہوتے یعنی نماز پڑھتے وَقْت لازِم ہے۔ مُراد یہ ہے کہ نامحرم کے سامنے کم از کم سِتْرِعورت کا خیال ضَرور رکھے۔ چنانچہ، 
ستر عورت کیا ہے؟
دعوتِ اسلامی کے اشاعتی ادارے مکتبۃ المدینہ کی مطبوعہ  308 صَفحات پر مشتمل کتاب اسلامی بہنوں کی نماز (حنفی) صَفْحَہ 91پر ہے:اِسلامی بہن کے لیے ان پانچ۵ اَعضا :مُنہ کی ٹکلی ، دونوں ہتھیلیاں اور دونوں پاؤں کے تَلووں کے عِلاوَہ سارا جسم چُھپانا لازِمی ہے۔ (۱)البتّہ اگر دونوں ہاتھ(گِٹّوں تک) ، پاؤں(ٹخنوں تک) مکمَّل ظاہِر ہوں تو ایک مُفْتٰی بِہ قَول پر نَماز دُرُست ہے۔ اگر ایسا باریك کپڑا پہنا جس سے بدن کا وہ حصّہ جس کانَماز میں چُھپانا فَرْض ہے نَظَر آئے یاجِلد(یعنی چمڑی) کا رنگ ظاہِرہو نَماز نہ ہو گی۔(۲)
پیاری پیاری  اسلامی بہنو! ہائے افسوس! صد افسوس! آج کل باریك کپڑوں کا رَواج بڑھتا جارہا ہے، لہٰذا یاد رکھئے!ایساکپڑا پہننا جس سے سِتْرِعورت نہ ہوسکے عِلاوہ نَماز کے بھی حرام ہے۔(۳) جیسا کہ حضرت سیِّدُنا دِحیہ کلبی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے 


(۱) ……… در مختار، کتاب الصلاة، باب شروط الصلاة، ص٥٨
 (۲)……… فتاوٰی ھنديه ، کتاب الصلاة ، الباب الثالث فی شروط الصلاة، الفصل الاول، ١/٦٥
 (۳)……… بہا رِشريعت ،نماز کی شرطوں كا بيان، ۱/۴۸۰