Brailvi Books

صحابیات اور پردہ
22 - 55
پیاری پیاری اِسلامی بہنو! اس طویل حِکایَت میں ہم سب کے لیے بَہُت سے مَدَنی پھول موجود ہیں اور ان میں سب سے اَہَم مَدَنی پھول یہ ہے کہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اِسلام لانے کے بعد اپنے شوہر کو بھی اِسلام کی حَقّانِیَّت کے سائے میں لانے کے لیے اس قدر طویل سفر کیا مگر اِسلامی تعلیمات پر عَمَل کسی بھی موقع پر ترک نہ کیا اور پُرمَشَقَّت سفر میں بھی باپردہ رہیں۔ یوں بالآخر ان کی اپنے گھر کو مَدَنی ماحول کا گہوارہ بنانے کی مَدَنی سوچ رنگ لائی اور ان کے شوہر بھی مَدَنی رنگ میں رنگ گئے۔ 
پیاری پیاری اسلامی بہنو! اپنے گھروں کو مَدَنی ماحول کا گہوارہ بنانے کے لیے اگر آپ کو بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے تو حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی مشکلات کو یاد کرلیا کیجئے اور یاد رکھئے کہ اس راہِ پُر خَطَر پر چلنا بڑے دِل گردے کا کام ہے۔ سچی وَفا یہ ہے کہ جب خود مَدَنی ماحول کی برکتوں سے فیض یاب ہوں تو اپنے دیگر گھر والوں کو بھی تبلیغِ قرآن و سنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول کی مُعطّر و مشک بارفضا سے دُور نہ رہنے دیجئے۔
تیسرا درجہ
پردے کا تیسرا اور سب سے کم تر دَرَجہ یہ ہے کہ عورت کم از کم اس قدر 
(۱) ۔۔۔ ١٣ /٢٣٢، حدیث:٣٧٤١٦، مفهوماً