Brailvi Books

صحابیات اور پردہ
20 - 55
کپڑے باریک جن میں سے بدن چمکتا ہے یا سر کے بالوں یا گلے یا بازو یا کلائی یاپیٹ یا پِنڈلی کا کوئی حصّہ کُھلا ہو یوں توسِوا خاص مَحارِم کے جن سے نکاح ہمیشہ کو حَرام ہے کسی کے سامنے ہونا سخت حرامِ قطعی ہے۔(۱) 
خواہ مخواہ کی عذر خواہی سے بچئے
پیاری پیاری اسلامی بہنو!ہم میں سے بعض وہ اِسلامی بہنیں جنہیں کسی مُعاشَرتی مجبوری کی بنا پر گھر سے باہَر بالخصوص کسی سفر پر نکلنا پڑتا ہے تو پردے کا اِہتِمام نہیں کرتیں، بلکہ اپنی بے پردگی کا عُذر یوں بیان کرتی ہیں کہ ہمارے لیے ایسا ممکن نہیں۔ ایسی تمام اِسلامی بہنوں کی ترغیب کے لیے حضرت سَیِّدَتُنا  اُمِّ حکیم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی درج ذیل یہ حِکایَت ہی کافی ہے۔ چنانچہ، 
حضرت سَیِّدُنا عبداللہ بن زبیر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ فتح  مکہ  کے موقع پر  جب دشمنِ اسلام اَبُو جہل کے بیٹے حضرت سَیِّدُنا عِکْرِمہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی زوجہ حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ حکیم بنتِ حارِث رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے اِسلام قبول کیا  تو بارگاہِ رِسالت میں عرض کی: اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!عِکْرِمہ (جو ابھی تک مسلمان نہیں ہوئے تھے)یمن کی طرف   بھاگ گئے ہیں اور وہ اس بات سے  خوف زدہ ہیں کہ آپ انہیں قتل کردیں گے، لہٰذا انہیں اَمان عطا فرما

(۱)