Brailvi Books

صحابیات اور پردہ
19 - 55
 میں تحریر فرماتے ہیں: شَرعی اِجازَت کی صُورَت میں گھر سے نکلتے وَقْت اِسلامی بہن غیر جاذِبِ نظر کپڑے کا ڈِھیلا ڈھالا مَدَنی بُرقع اَوڑھے، ہاتھوں میں دستانے اور پاؤں میں جُرابیں پہنے۔ مگر دستانوں اور جُرابوں کا کپڑا اتنا باریک نہ ہو کہ کھال کی رنگت جھلکے۔ جہاں کہیں غیر مردوں کی نظر پڑنے کا اِمکان ہو وہاں چہرے سے نِقاب نہ اٹھائے مَثَلاً اپنے یاکسی کے گھر کی سیڑھی اور گلی مَحلّہ وغیرہ۔ نیچے کی طرف سے بھی اِس طرح بُرقع نہ اٹھائے کہ بدن کے رنگ برنگے کپڑوں پر غیر مردوں کی نظر پڑے۔ واضح رہے کہ عورت کے سر سے لیکر پاؤں کے گِٹّوں کے نیچے تک جسم کا کوئی حصّہ بھی مَثَلاً سر کے بال یا بازو یا کلائی یاگلا یاپیٹ یا پنڈلی وغیرہ اجنبی مَرد (یعنی جسں سے شادی ہمیشہ کیلئے حرام نہ ہو ) پر بلااِجازَتِ شَرْعی ظاہِر نہ ہو بلکہ اگر لباس ایسا مَہِین یعنی پتلا ہے جس سے بدن کی رنگت جھلکے یاایسا چُست ہے کہ کسی عُضْو کی ہَیْئَتْ(یعنی شکل و صورت یا اُبھار وغیرہ)ظاہِر ہو یادوپٹّہ اتنا باریک ہے کہ بالوں کی سیاہی چمکے یہ بھی بے پَردَگی ہے۔میرے آقا اعلیٰ حضرت،اِمامِ اَہلسنّت،ولیِ نِعمت، عظیمُ البَرَکت،عظیمُ المَرتَبت، پروانَۂ شَمْعِ رِسالت،مُجَدِّدِ دین ومِلَّت،حامیِ سنّت، ماحِیِ بِدعَت، عالِمِ شَرِیْعَت، پیرِ طریقت، باعِثِ خَیر وبَرَکت، حضرتِ علامہ مولانا الحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمد رضا خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں:جو وَضْعِ لباس (یعنی لباس کی بناوٹ) وطریقَۂ پَوشِش( یعنی پہننے کا انداز)اب عورات میں رائج ہے کہ