اَعمال آلودہ کررہی تھی ، خوفِ خُدا سے آشنا تھی نہ عِشْقِ مصطفےٰ کی حَلَاوَت سے آگاہ۔خوش قسمتی سے دَعْوَتِ اِسْلَامی سے وَابَسْتہ حَیا کے جذبے سے مَعْمُور اِسْلَامی بہنوں کی رَفَاقَت کیا ملی؟ میری عَمَل سے عارِی زِنْدَگی سنّتوں سے آباد ہوگئی،سنّتوں بھرے اجتماعات میں خوفِ خُدا اور عِشْقِ مصطفےٰ کے رُوح پَرْوَر مَنَاظِر دیکھ کر میرے دِل میں بھی خوفِ خُدا اور عِشْقِ مصطفےٰ کی وہ شَمْع فَرَوْزَاں (روشن) ہوئی کہ اس کی کِرنوں سے نہ صِرف میرا ظاہِر روشن ہوگیا بلکہ میرا باطِن بھی جگمگا اُٹھا۔یہاں تک کہ اب میرا اٹھنا بیٹھنا سونا جاگنا سنّتوں کے تابع ہو گیا ہے، زبان پر سنّتوں کا چَرْچَا ہوتا ہے تو کان صِرف نَعْتِ رَسولِ مَقْبول سننا پسند کرتے ہیں۔جب نعت شریف کے میٹھے میٹھے بول کانوں کے ذریعے دِل و دِماغ تک پہنچتے ہیں تو عِشْقِ رَسول میں بے قراری و بے خودی کی ایک خاص کَیْفِیَّت طارِی ہو جاتی ہے اور دِل دیدارِ گنبدِ خضرا کے لیے مدینے کی حاضِری کی تمنّا میں مچلنے لگتا ہے۔ جوں جوں وَقْت مَدَنی مَاحَول میں گزرتا جارہا ہے عِشْقِ رَسول میں بھی اِضافہ ہوتا جارہا ہے یہاں تک کہ میری کوئی دُعا بھی بارگاہِ مصطفےٰ میں حاضِری کی بھیک سے خالی نہیں ہوتی۔دِل میں عِشْقِ مصطفےٰ کی اس بھڑکتی آگ نے میری عاداتِ بد کو جلا کر خَاکِسْتَر کر دیاہے اور اب بے اَدَبی و گستاخی کی جگہ وَالِدَین اور بڑوں کے اَدَب اور چھوٹوں پر شَفْقَت نے لے لی ہے۔یہ سب مَدَنی مَاحَول کی بَرَکَت ہے، اللہ عَزَّ وَجَلَّ پندرھویں صَدی کی عظیم عِلْمی و رُوحانی شَخْصِیَّت، شیخِ طریقت، اَمِیرِ اہلسنّت،