میں نے اس پر روغن مل کر اپنے پاس بَطَورِ تَبَرُّک مَحْفُوظ کر لیا، اس کے بعد ہم اس کا پانی بیماروں اور مرنے والوں (یعنی قریب الموت لوگوں)کو بَرَکت کے لیے پلایا کرتے تھے۔1
عشق اور عاشقانِ رسول کے متعلق چند باتیں
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! یاد رکھئے!
٭…عاشقانِ رسول راہِ عِشْق میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
٭…عبادت گزار عِشْق و مَحبَّت کی نسیمِ صُبْح سے راحَت پاتے ہیں۔
٭…عِشْق و مَحبَّتِ رسول عاشقانِ رَسول کے دِلوں کی غِذا ، اَرْوَاح کا رِزْق اور آنکھوں کی ٹھنڈک ہے۔
٭… عِشْق و مَحبَّتِ رَسول سے مَحْرُوم شخص مُردوں میں شُمار ہوتا ہے۔
٭… عِشْق و مَحبَّت کے نُور سے مُنَوَّر عاشقانِ رَسول کبھی تاریکیوں کے سمندر میں غَرْق نہیں ہوتے۔
٭… عِشْق و مَحبَّتِ رَسول وہ شِفا ہےجس سے مَحْرُوم شخص کا دِل بیماریوں کا گڑھ بن جاتا ہے۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… الطبقات الکبری لابن سعد، تسمیہ نساءالانصار…الخ،۴۲۹۲-ام عامر اشھلية، ۸/ ۲۴۴