Brailvi Books

صَحابیات اور عِشْقِ رَسول
43 - 62
 سے بھرپور فائدہ اُٹھانے کا سوچا اور سب سے پہلے وہ مکّہ مکرمہ کے قریب ہی واقِع ایک بستی میں اپنے چند رشتہ داروں کے ہاں گئیں اور تین۳چار۴ دِن قِیام کے بعد واپَس لَوٹ آئیں تاکہ گھر والوں کو شک نہ ہو اور ان کا دوبارہ دیہات جانا انہیں ناگوار نہ گزرے۔ واپسی کے بعد جب آپ نے دیکھا کہ گھرکے حالات سازگار ہیں اور ان کا دیہات جانا کسی کو مَعْیُوب نہیں لگا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہانے سُوئے مدینہ رَخْتِ سَفَر باندھا اور تَن تَنْہا گھر سے اس انداز میں روانہ ہوئیں کہ سب کو یہی لگے کہ دیہات کی طرف جا رہی ہیں۔ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے عِشْقِ سَرْوَر کے کیا کہنے! آپ راستے سے آگاہ تھیں نہ راستے کی مشکلات سے بخوبی واقِف تھیں۔ بس رُخ سُوئے مدینہ کیا اور پیدل ہی چل پڑیں۔1
 ان کے در پہ موت آجائے تو جی جاؤں حسن
    ان کے در سے دور رہ کے زِنْدَگی اَچھّی نہیں2
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ………پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو! اس واقعہ سے کسی کے ذِہْن میں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ عورت کو بغیر مَحْرَم کے تین۳ دن یا زیادہ ، بلکہ ایک دن کی راہ جانا بھی ناجائز ہے۔ (بہارِ شریعت، ۱/۷۵۲) تو پھر حضرت سَیِّدَتُنا ام کلثوم رَضِیَاللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ زَادَہُمَا اللّٰہُ شَرَفًاوَّتَعْظِیْماً کی طرف ہجرت کا سَفَر تنہا اور بغیر کسی مَحْرَم کے کیوں کیا؟ تو اس کا جواب دیتے ہوئے مُفَسِّرِ شَہِیر، حکیم الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحمَۃُ الْحَنَّان فرماتے ہیں: اس مُمانَعَت کے حکْم سے مُہاجِرہ اور کفّار کی قید سے چھوٹنے والی عورت خارِج ہے کہ یہ دونوں عورتیں بغیر مَحرم اکیلی ہی دارُ السلام کی طرف سَفَر کر سکتی ہیں بلکہ یہ سَفَر ان پر واجِب ہے۔ (مراۃ المناجیح، ۴/۹۰)
 ………ذوق نعت،  ص۱۳۳