Brailvi Books

صَحابیات اور عِشْقِ رَسول
42 - 62
پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے مدینہ شریف ہجرت فرمانے سے پہلے پہلے دامَنِ مصطفےٰ سے وَابَسْتہ ہو کر اَسِیرِ گیسوئے مصطفےٰ تو ہو گئے تھے مگر کسی وجہ سے ہجرت نہ کر سکے اور یوں ان کی نِگاہیں صُبْح و شام دِیدارِ مصطفےٰ کی لذّتوں سے مَحْرُوم ہوگئیں۔ دُکھی دِلوں کے چَین ، سَروَرِ کونَین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نِگاہوں سے اَوجھل ہونے نے ان کے دِلوں میں فِراق و جُدائی کی وہ آگ بھڑکائی کہ مَوْقَع ملتے ہی یہ لوگ آہستہ آہستہ سُوئے مَقامِ مصطفےٰ روانہ ہونے لگے۔ 
کرے چارہ سازی زِیَارَت کسی کی​   بھرے زَخْم دِل کے مَلاحَت کسی کی
چمک کر یہ کہتی ہے طَلْعَت کسی کی  کہ دِیدارِ حَق ہے زِیَارَت کسی کی1
حضرت سَیِّدَتُنا  اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے دِل و دِماغ عِشْق و مَحبَّتِ مصطفےٰ کی آگ میں خَاکِسْتَر ہوئے جا رہے تھے تو آنکھیں محبوبِ خُدا کے دِیدار کے لیے بے قَرار تھیں، آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بھی ہر دَم سُوئے مصطفےٰ روانگی کے لیے کسی مَوْقَع کی تلاش میں تھیں،آخِر جب دِلِ مُضْطَر(بے چین دِل)پر قابو نہ رہا تو درِ حبیب  پر حاضِری کے لیے عَجَب حیلہ سے کام لیا۔ اُدھر حالات بھی کافی سازگار تھے کیونکہ صُلْح حُدَیْبِیَّہ کے بعد اہلِ مکّہ کو یہ اِطمینان ہو چکا تھا کہ اب اگر کسی نے ہجرت کی بھی تو اسے واپَس لے آیا جائے گا، لہٰذا ان کی اس بے فِکْری کے باعِث سَیِّدَتُنا  اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کو گھر سے باہَر نکلنے کا مَوْقَع مل گیا اور انہوں نے اس
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… ذوقِ نعت، ص ۱۶۶