ہے۔1اسی طرح مَرْوِی ہے کہ ایک بار اُمُّ المومنین حضرت سیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی خِدْمَت سراپا غیرت میں آپ کے بھائی حضرت سَیِّدُنا عبدُ الرَّحمٰن رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی بیٹی حضرت سَیِّدَتُنا حفصہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا حاضِر ہوئیں جنہوں نے سر پر بارِیک دوپٹّا اَوڑھا ہوا تھا تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اس دوپٹّے کو (شرعاً مَـمْنُوع ہونے کی وجہ سے)پھاڑ کر انہیں موٹا دوپٹّا اوڑھا دیا۔2
چوتھی علامت: قُرْبِ محبوب کی کوشش
مَحبَّتِ مصطفےٰ کے باعِث ہر شے سے ناطہ توڑ کر اس طرح سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا بن جائیے کہ ان کے سِوا کہیں سُکُون ملے نہ چین، بلکہ بارگاہِ حبیب میں ہی دِل کو اِطمینان حاصِل ہو یعنی فِکْر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے قُرْب کے حُصُول میں مگن رہے تو نَظَر میں ہمیشہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے جَلْوے سمائے ہوں۔نہ اِس پَل چَین آئے نہ اُس پَل قَرار آئے۔3 جیسا کہ شَرْم وحَیا کے پیکر اَمیرُ الْمُومنین حضرت سَیِّدُنا عثمانِ غنی رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اَخیافی (یعنی ماں جائی) بہن حضرت سَیِّدَتُنا اُمِّ کلثوم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کے مُتَعَلّق مَرْوِی ہے کہ آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کا شُمار بھی ان خوش بختوں میں ہوتا ہے جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… ابو داود، کتاب الطلاق، باب احداد المتوفی عنھا زوجھا، ص۳۶۸، حدیث:۲۲۹۹ملتقطاً
2 ……… موطا امام مالك،کتاب اللباس، باب ما یکرہ للنساء … الخ، ص۴۸۵،حدیث:۱۷۳۹
3 ……… ماخوذا ز قوت القلوب،الفصل الثانی والثلاثون، ذکر احکام المحبة…الخ، ۲/۸۹