لائے اور نَوَاہی سے اِجْتِنَابکرے اور ہر تنگی و آسانی میں آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سیرتِ طیبہ سے حاصِل مدنی پھولوں کو پیشِ نَظَر رکھے، نیز جس بات کو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے مَشْرُوع قرار دیا اور اس پر عَمَل کی ترغیب وتنبیہ فرمائی ہو اسے اپنی نفسانی خواہشات پر ترجیح دے۔1چنانچہ ہر اُمَّتی کے لیے طَاعَتِ رَسول کی کیا شان ہونی چاہیے اس کا جَلْوَہ دیکھنا ہو تو صَحابیات طیبات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ کی سِیْرَت کا مُطَالَعَہ کیجئے، کیونکہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحْبُوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنّتوں پر عَمَل کی سراپا مِثال تھیں، انہوں نے کبھی بھی کسی بھی حال میں سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے کسی حکْم پر عَمَل سے منہ موڑا نہ اس سلسلے میں کبھی کسی رِشتے کو کوئی اَہَمِیَّت دی۔ جیسا کہ اُمُّ الْمُومِنِین حضرت سیِّدَتُنا اُمّ حبیبہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اپنے والِد ماجِد حضرت سَیِّدُنا ابو سُفیان رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہ کے اِنتقَال فرمانے کے بعد اور اُمُّ الْمُومنین حضرت سیِّدَتُنا زینب بنتِ جحش رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہا نے اپنے بھائی کے وِصال کے (تین۳ دن)بعد خوشبو لگائی اور اِرشَاد فرمایا: خُدا کی قَسَم! مجھے اس کی ضَرورت نہ تھی مگر میں نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو فرماتے سنا ہے کہ جو عورت اللہ عَزَّ وَجَلَّ اور یومِ آخِرَت پر اِیمان رکھتی ہے اس کے لیے حَلال نہیں کہ وہ کسی کے مَرنے کا سوگ تین۳ راتوں سے زیادہ کرے۔ سِوائے شوہَر کے،کہ اس کے سوگ کی مُدَّت چار۴ ماہ دس دِن
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… ماخوذاز کتاب الشفا، القسم الثانی، الباب الثانی، فصل فی علامة محبته، ۲/۲۲