کے درمیان حائل پردہ ہٹایا اور عِشْقِ نبی سے مَعْمُور اس عورت کی نِگاہ اپنے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی قَبْرِ اَنْوَر پر پڑی تو وہ اپنی بے پناہ مَحبَّت اور والہانہ عِشْق کے باعِث خود پر قابو نہ رکھ پائی اور جان سے بھی عزیز تر اپنے مَحْبُوب آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی جُدائی پر اس کی آنکھوں سے اَشکوں کا سیلاب جارِی ہو گیا اور پھر دَرِ رَسول پر یوں ہی روتے روتے اس کی بے قَرار رُوْح کو قَفَسِ عُنْصُرِی سے پرواز کرنے کے باعِث قَرار مل گیا۔1
آپ کے عِشْق میں اے کاش! کہ روتے روتے
یہ نِکَل جائے میری جان مدینے والے2
تیرے قدموں پر سَر ہو اور تارِ زِنْدَگی ٹوٹے
یہی اَنْجَامِ اُلْفَت ہے یہی مرنے کا حاصِل ہے3
صَلُّوا عَلَی الْحَبیب! صَلَّی اللّٰہُتَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
تیسری علامت: اتباع شریعت
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی پَیروی کرے اور آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی سنّتوں کا عامِل ہو، آپ کے اَفعال و اَقوال کا اِتِّبَاع کرے، آپ کے حکْم کو بجا
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… شرح الشفا، القسم الثانی، الباب الثانی، فصل فیما روی السلف…الخ، ۲/۴۴
نسيم الرياض، القسم الثانی، الباب الثانی، فصل فیما روی السلف…الخ، ۴/۴۳۰
……… وسائل بخشش، ص۳۰۵
……… صحابہ کرام کا عشق رسول، ص۱۵۳