میرے والِد آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم پر قُربان۔1
دوسری علامت: شوقِ ملاقات
دیدارِ سرکار کا بَہُت زیادہ شوق ہو، کیونکہ ہر مُحِب اپنے مَحْبُوب سے مُلاقات کا شوق رکھتا ہے اور بعض مشائخ کا تو یہ بھی کہنا ہے کہ مَحبَّت مَحْبُوب کے شوق کا ہی دوسرا نام ہے۔2چنانچہ،
فراقِ نبی میں تڑپنے والی صحابیہ
جب اللہعَزَّ وَجَلَّ کے پیارے حبیب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اس جَہانِ فانی سے پردہ فرمایا تو قبیلہ ہاشِم کی ایک عورت نے اُمُّ الْمُومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیقہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی خِدْمَت میں حاضِر ہو کر عَرْض کی : مجھے ایک بار میرے آقا کی قَبْرِ اَنْوَر کا دِیدار کرا دیجئے۔کیونکہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے مَحبوب، دانائے غُیوب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عَظَمَتِ شان کے باعِث آپ کی قَبْرِ اَنْوَر پر پردے لٹکا دئیے گئے تھے اور اگر کوئی زِیارَتِ قَبْرِ اَنْوَر سے مُشَرَّف ہونا چاہتا تو اسے سَیِّدہ عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا کی اِجازَت لینا پڑتی کیونکہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم آپ کے ہی کاشانۂ اَقْدَس میں مَحْوِ آرام تھے۔ چنانچہ اُمُّ الْمُومنین حضرت سَیِّدَتُنا عائشہ صِدِّیْقَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا نے اس کی حَالَتِ زَار پر کَرَم فرماتے ہوئے جونہی قَبْرِ اَنْوَر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… نسائی،کتاب الحيض و الاستحاضة، باب شھود الحیض … الخ، ص۷۰، حدیث:۳۸۸
2 ……… ماخوذ ازالمواهب اللدنیه ، المقصد السابع، الفصل الاول فی وجوب محببته ، ۲/۴۹۷