سیرتِ صحابیات کی روشنی میں عشق و محبتِ مصطفٰے پر مشتمل چند باتیں
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!رسولِ اَکرم،شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے مَحبَّت کی کئی علامات ہیں،یہاں ذیل میں مُـخْتَلِف کُتُب 1سے ماخوذ چند علامات ذِکْر کی جارہی ہیں:
پہلی علامت:کثرتِ ذکر
آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکْر اس کَثْرَت و لذّت سے کیا جائے کہ آپ کے سِوا دِل میں کسی کی مَحبَّت باقی رہے نہ کسی کی یاد سے لُطْف آئے۔2 بلکہ ذِکْرِ مَحْبُوب کے وَقْت اَلفاظ اس قَدْر شیریں ہو جائیں کہ ان کی حَلَاوَت و مِٹھاس تادیر کانوں میں رَس گھولتی رہے۔ یہی وجہ ہے کہ صَحابیات طیبات رَضِیَ اللّٰہ ُتعالٰی عَنْہُنَّ جب سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا تَذْکِرہ کرتیں تو مَحبَّتِ سرکار ان کے اَلفاظ سے عَیاں ہوتی۔ جیسا کہ حضرت سیِّدَتُنا اُمِّ عَطیہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہا جب بھی حُضُور سراپا نور،شاہِ غَیور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا ذِکْر کرتیں تو فَرْطِ مَسَرَّت سے کہتیں:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
………یہاں مختلف کتب سے مراد یہ کتب ہیں: قوت القلوب از شیخ ابو طالب مکی، احیاء العلوم از امام غزالی، المواہب اللدنیہ از امام قسطلانی، شرح مواہب از امام زرقانی، شفا از قاضی عیاض و شرح شفا از ملا علی قاری اور سیرت مصطفیٰ از عبد المصطفی اعظمی۔
……… ماخوذاز المواهب اللدنیة،المقصد السابع،الفصل الاول فی وجوب محبته…الخ، ۲/۴۹۵