Brailvi Books

صَحابیات اور عِشْقِ رَسول
36 - 62
 فرماتے ہی رہتے ہیں، لہٰذا اس گناہ گار کے لیے مَغْفِرَت کی تینوں شرطیں پائی گئیں۔ اس لیے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّاس کی ضَرور مَغْفِرَت ہو جائے گی۔یہی وجہ ہے کہ چاروں مَذاہِب کے عُلَمائے کِرام نے مَناسِکِ حَج و زِیَارَت کی کِتابوں میں یہ تحریر فرمایا ہے کہ جو شخص بھی رَوضۂ مُنَوّرہ پر حاضِری دے اس کے لیے مُسْتَحَب ہے کہ اس آیَت کو پڑھے اور پھر خُدا سے اپنی مَغْفِرَت کی دُعا مانگے۔مذکورہ بالا آیَتِ مُبارَکہ کے عِلاوہ بَہُت سی حدیثیں بھی رَوضَہ مُنَوّرہ کی زِیَارَت کے فضائل میں وارِد ہوئی ہیں جن کو عَلّامہ سَمْہُودی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی نے اپنی کتاب وفاء الوفا اور دوسرے مُسْتَنَد سلف صَالِـحِین عُلَمائے دین نے اپنی اپنی کتابوں میں نَقْل  فرمایا ہے۔ مثلاً فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہے: مَنْ زَارَ قَبْرِیْ وَجَبَتْ لَهٗ شَفَاعَتِیْ۔1 یعنی جس نے میری قَبْر کی زِیَارَت کی اس کے لیے میری شَفَاعَت واجِب ہو گئی۔ اسی لیے صَحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہم کے مُقَدَّس زمانے سے لے کر آج تک تمام دنیا کے مسلمان قَبْرِ مُنَوَّر کی زِیَارَت کرتے اور آپ کی مُقَدَّس جناب میں تَوَسُّل اور اِسْتِغَاثَہ کرتے رہے ہیں اور اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قِیامَت تک یہ مُبارَک سلسلہ جارِی رہے گا۔ 2
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ……… سنن الدار قطنی، کتاب الحج، باب المواقیت، ۱/۲۱۷، حدیث:۲۶۶۹
2 ………سیرت مصطفےٰ، ص ۸۴۸