Brailvi Books

صَحابیات اور عِشْقِ رَسول
35 - 62
میں فرماتے ہیں کہ حُضُورِ اَقْدَس صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے روضَۂ مُقدسہ کی زِیَارَت سُنّتِ مُؤکدّہ قریب واجِب ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: 
وَلَوْ اَنَّہُمْ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمْ جَآءُوۡکَ فَاسْتَغْفَرُوا اللہَ وَاسْتَغْفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾(پ۵،النسآء:۶۴)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراگر جب وہ اپنی جانوں پر ظُلْم  کریں تو اے مَحْبُوب  تمہارے حُضُور حاضِر ہوں اور پھر اللہسے مُعافی چاہیں اور رسول ان کی شَفَاعَت فرمائے تو ضَرور اللہکو بَہُت   توبہ قُبول کرنے والا مِہربان پائیں۔
مزید فرماتے ہیں کہ اس آیَت میں گناہ گاروں کے گناہ کی بَـخْشِشْ کے لیے اَرْحَمُ الرَّاحِمِین نے تین۳ شرطیں لگائی ہیں: اَوَّل دربارِ رسول میں حاضِری۔ دُوَم اِسْتِغْفار۔ سِوُم رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی دُعائے مَغْفِرَت۔یہ حکْم حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ظاہِری دُنْیَوِی حَیات ہی تک مَحْدُود نہیں بلکہ روضۂ اَقْدَس میں حاضِری بھی یقیناً دربارِ رَسول ہی میں حاضِری ہے۔ اسی لیے عُلَمائے کِرام عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہِ السَّلَامنے تصریح فرما دی ہے کہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے دربار کا یہ فیض آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی وفاتِ اَقْدَس سے مُنْقَطِع نہیں ہوا ہے۔ اس لیے جو گناہ گار قَبْرِ اَنْوَر کے پاس حاضِر ہو جائے اور وہاں خُدا سے اِسْتِغْفار  کرے اور چونکہ حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تو اپنی قَبْرِ اَنْوَر میں اپنی اُمَّت  کے لیے اِسْتِغْفار