تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ایک عورت کو نِکاح کا پیغام بھیجا تو اس نے
مَعْذرَت کرتے ہوئے عَرْض کی: مجھے آپ سے نِکاح میں کوئی مسئلہ نہیں، بلکہ آپ تو مجھے سب سے زیادہ مَحْبُوب ہیں مگر میرے بچے ہیں اور میں نہیں چاہتی کہ یہ آپ کے لیے تکلیف کا باعِث بنیں ۔1
بارگاہِ نبوت کی بے ادبی قطعاً گوارا نہ تھی
اسی طرح حضرت سَیِّدُنا عبدُ الرحمٰن بن عامِری رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ اپنی قوم کے شُیوخ سے رِوایَت کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم بازارِ عُکاظ میں تھے کہ سرورِ دو۲عالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہمارے پاس تشریف لائے اور ہمیں دینِ اِسلام کی دعوت دی جو ہم نے قُبول کر لی۔ اتنے میں بُحیرہ بن فِراس قُشَیری آیا اور اس نے آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اونٹنی کی کوکھ میں نیزہ چبھا دیا جس کی وجہ سے وہ اچھلی اور آپ زمین پر تشریف لے آئے۔ اس دن حضرت سَیِّدَتُنا ضُباعہ بنتِ عامِر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا بھی اِیمان لا کر عاشِقانِ مصطفےٰ میں شامِل ہو چکی تھیں، انہیں مَعْلُوم ہوا تو وہ آپے سے باہَر ہو گئیں اور اپنے چچا زاد بھائیوں کے پاس آکر ان کی غیرت کو جھنجھوڑتے ہوئے غضبناک لہجے میں بولیں:اے آلِ عامِر! مجھے تمہارا کیا فائدہ! تمہارے سامنے میرے آقا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی بے اَدَبی کی گئی اور
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
……… اسد الغابة ،حرف السین،۷۰۳۸-سودة القرشية، ۷/ ۱۵۹، ملخصا