Brailvi Books

صَحابیات اور عِشْقِ رَسول
28 - 62
مَرْوِی ہے کہ جب اُمہاتُ الْمومنین مرضُ الموت کے دوران بارگاہِ نُبوّت  میں حاضِر ہوئیں تو آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی تکلیف ان سے بَرْدَاشْت نہ ہوئی۔ اس مَوْقَع پر اُمُّ الْمُومِنِین  حضرت سیِّدَتُنا صفیہ رَضِیَ اللّٰہ تَعَالٰی عَنْہَا نے مَحْبُوبِ خُدا صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جو کچھ عَرْض کی وہ آپ کے مَحبَّتِ مصطفےٰ کا پیکر ہونے کا منہ بولا ثُبُوت  ہے۔ چنانچہ آپ نے عَرْض  کی: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قَسم: یا نَبِیَّ  اللہ! کاش!مَیں آپ کی جگہ ہوتی۔ تو آپ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہاکی اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے دو۲جہاں کے تاجْوَر، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے اِرشَاد فرمایا: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی قَسَم! یہ سچ  بولنے والی ہیں۔ 1
]5[ تعظیمِ رسول
اُمَّت پر حُقوقِ مصطفےٰ  میں سے ایک نِہَایَت ہی اَہَم اور بَہُت بڑا حَق یہ بھی ہے کہ ہر اُمَّتی پر فَرْضِ عَین ہے کہ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اور آپ سے نِسْبَت و تعلّق رکھنے والی تمام چیزوں کی تعظیم و توقیر اور اَدَب و اِحْتِرام کرے اور ہرگز ہرگز کبھی ان کی شان میں کوئی بے اَدَبی نہ کرے۔ جیسا کہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے: 
اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰکَ شَاہِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیۡرًا ۙ﴿۸﴾ لِّتُؤْمِنُوۡا بِاللہِ وَ رَسُوۡلِہٖ
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک ہم نے تمہیں بھیجا حاضِر  و ناظِر اور خوشی اور ڈر سناتا تاکہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ……… الاصابة ،كتاب النساء،  حرف الصاد، صفیہ بنت حیی، ۸/۲۳۳ملخصاًملتقطاً