Brailvi Books

صَحابیات اور عِشْقِ رَسول
24 - 62
حَلاوَتِ اِیمانی کے حُصُول کی عَلامَت قرار دیا، جن میں ایک یہ ہے کہ بندے کی نَظَر میںاللہ عَزَّ وَجَلَّ اور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی ذات کائنات کی ہر چیز سے زیادہ مَحْبُوب وپسندیدہ ہوجائے۔1
یہ اِک جان کیا ہے اگر ہوں کروڑوں 
تیرے نام پر سب کو وَارا کروں میں2
]2[ اتباعِ سنّتِ رسول
سرورِ کائنات، فَخْرِ مَوجُودات صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سیرتِ مُبارَکہ اور سنّتِ  مُقَدَّسہ کی پَیروی ہر مسلمان پر واجِب و لازِم ہے۔ جیسا کہ فرمانِ باری ہے: 
قُلْ اِنۡ کُنۡتُمْ تُحِبُّوۡنَ اللہَ فَاتَّبِعُوۡنِیۡ یُحْبِبْکُمُ اللہُ وَ یَغْفِرْ لَکُمْ ذُنُوۡبَکُمْؕ وَاللہُ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ﴿۳۱﴾ (پ۳، آل عمران: ۳۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اے محبوب تم فرما دو کہ لوگو اگر تم اللہ کو دوست رکھتے ہو تو میرے فرمانبردار ہو جاؤاللہ تمہیں دوست رکھے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
اسی لیے آسمانِ اُمَّت کے چمکتے ہوئے سِتارے، ہِدَایَت کے چاند تارے، اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  اور اس کے  رسول کے پیارے صَحابۂ کِرام رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہم و صَحابیات طیبات
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ……… بخاری، کتاب بدء الایمان، باب حلاوة الایمان،ص۷۴ ، حدیث:۱۶مفهومًا
2 ……… سامان بخشش، ص۱۰۲