Brailvi Books

صَحابیات اور عِشْقِ رَسول
21 - 62
 ……… سبل الھدی، الباب الثالث عشرفی غزوة احد، ذکر رحیل النبی …الخ، ۴/۳۳۵
 واِحْتِرام کا اِلْتِزام رکھا جائے۔ بجز ان رشتہ داروں کے جن کا کافِر اور جہنمی ہونا قرآن و حدیث سے یقینی طور پر ثابِت ہے۔ جیسے ابو لہب اور اس کی بیوی حمالۃ الحطب، باقی تمام قرابت والوں کا اَدَب مَلْحُوظِ خاطِر رکھنا لازِم  ہے کیونکہ جن لوگوں کو حُضُور صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے نِسْبَتِ قرابت حاصِل ہے ان کی بے اَدَبی و گستاخی یقیناً آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی اِیذا رَسانی کا باعِث ہو گی جو کہ مَـمْنُوع ہے جیساکہ قرآن کریم میں ہے کہ جو لوگ اللہعَزَّ  وَجَلَّاور اس کے رسول صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکو اِیذا دیتے ہیں وہ دنیا و آخِرَت  میں مَلْعُون ہیں۔1
اُمَّت پر حُقُوقِ مصطفٰے
پیاری پیاری اِسْلَامی بہنو!مَحْبُوبِ ربِّ داور، شفیعِ روزِ مَحشر صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی اُمَّت کی ہِدَایَت و اِصلاح اور فلاح کے لیے بے شُمار تکالیف بَرْدَاشْت فرمائیں،نیز آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے اپنی اُمَّت  کی نجات ومَغْفِرَت کی فِکْر اور اس پر آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی شَفْقَت و رَحْمَت کی اس کَیْفِیَّت پر قرآن بھی شاہِد ہے۔ چنانچہ اِرشَاد ہوتا ہے: 
لَقَدْ جَآءَکُمْ رَسُوۡلٌ مِّنْ اَنۡفُسِکُمْ عَزِیۡزٌ عَلَیۡہِ مَاعَنِتُّمْ حَرِیۡصٌ
ترجمۂ کنز الایمان:بے شک تمہارے پاس تشریف لائے تم میں سے وہ رسول  جن پر
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
 ……… سیرت مصطفیٰ ، ص ۶۶ بتغیر